جکارتہ سے نوسانتارا، انڈونیشیا دارالحکومت کیوں منتقل کر رہا ہے؟

2 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں چند دن گزارنے کے دوران شہر کی سڑکوں پر جو چیز سب سے زیادہ نمایاں نظر آئی، وہ اس کی مصروف ٹریفک اور موٹر سائیکلوں کی بڑی تعداد تھی۔

پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بھی کافی متحرک ہے، لیکن سڑکوں پر موٹر سائیکلیں ہر طرف دکھائی دیتی ہیں، اور ان میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔

ایک مسافر کی حیثیت سے جکارتہ کو قریب سے دیکھیں تو یہ ایک ایسا شہر محسوس ہوتا ہے جہاں زندگی مسلسل حرکت میں ہے۔ بلند و بالا عمارتیں، شاپنگ مالز، کاروباری مراکز اور گنجان آباد علاقے شہر کے جدید اور تیزی سے پھیلتے ہوئے شہری منظرنامے کی عکاسی کرتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک ہے، لیکن جکارتہ کی شہری زندگی میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کی موجودگی بھی نمایاں ہے۔

مسلمانوں کے ساتھ بدھ مت، ہندو مت اور عیسائیت سمیت دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی برادریاں بھی یہاں موجود ہیں۔ مختلف مذہبی عبادت گاہیں اور تہوار اس معاشرتی تنوع کی عکاسی کرتے ہیں، اور انڈونیشیا کو اکثر مذہبی تنوع اور بقائے باہمی کی ایک نمایاں مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

لیکن اسی گنجان اور متحرک شہر کو بڑھتی آبادی، ٹریفک، آلودگی، سیلاب اور انفراسٹرکچر پر بڑھتے دباؤ جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔

جکارتہ اور اس کے وسیع تر میٹروپولیٹن علاقے میں کروڑوں لوگ رہتے ہیں۔ بڑھتی آبادی نے رہائش، سڑکوں، انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات پر دباؤ بڑھایا ہے۔ شہر طویل عرصے سے ٹریفک، آلودگی اور سیلاب جیسے مسائل سے بھی دوچار ہے۔

لیکن شاید سب سے بڑا مسئلہ وہ ہے جو آنکھوں سے فوری طور پر نظر نہیں آتا، اور وہ یہ کہ جکارتہ کی زمین دھنس رہی ہے۔

زیرِ زمین پانی کا بڑے پیمانے پر استعمال اس کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ بعض ساحلی علاقوں میں زمین کے دھنسنے کے ساتھ سمندر کی سطح میں اضافے کا خطرہ بھی موجود ہے، جس سے مستقبل میں سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

روئٹرز کے مطابق جکارتہ سے دارالحکومت منتقل کرنے کے منصوبے کی ایک بڑی وجہ شہر کا گنجان ہونا اور زمین کا دھنسنا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی پس منظر میں انڈونیشیا نے 2019 میں دارالحکومت منتقل کرنے کا اعلان کیا اور مشرقی کلیمانتان میں نوسانتارا نامی نیا شہر تعمیر کرنا شروع کیا۔

اس کی تعمیر 2022 میں شروع ہوئی اور حکومت کا ہدف ہے کہ 2028 تک قومی حکومت کو یہاں منتقل کیا جائے۔

نوسانتارا جکارتہ سے تقریباً 1200 کلومیٹر دور جزیرہ بورنیو پر واقع ہے۔ حکومت کے مطابق یہ منصوبہ صرف جکارتہ کا بوجھ کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ ملک کی ترقی کو جاوا کے جزیرے سے باہر دوسرے علاقوں تک پھیلانے کی کوشش بھی ہے۔

یعنی انڈونیشیا کے لیے یہ صرف دارالحکومت کی جگہ بدلنے کا منصوبہ نہیں، بلکہ یہ فیصلہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش بھی ہے کہ تیزی سے بڑھتے ہوئے شہر، محدود انفراسٹرکچر اور موسمیاتی خطرات کے درمیان مستقبل کا دارالحکومت کیسا ہونا چاہیے۔

تاہم، نوسانتارا کا منصوبہ بھی تنقید سے خالی نہیں۔ اس پر بھاری اخراجات، تعمیر کی رفتار، نجی سرمایہ کاری اور ماحولیاتی اثرات سے متعلق سوالات اٹھتے رہے ہیں۔  حکومت نے 2029 تک نوسانتارا کی ترقی کے لیے تقریباً تین ارب ڈالر مختص کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

جکارتہ سے دارالحکومت منتقل کرنے کے منصوبے کی ایک بڑی وجہ شہر کا گنجان ہونا اور زمین کا دھنسنا ہے۔
جمعرات, اکتوبر 1, 2026 - 19:45
Main image: 

<p class="rteright">جکارتہ کے کاروباری مرکز میں 13 نومبر، 2024 کو شام کے وقت رش کے دوران ٹریفک میں گاڑیاں پھنسی ہیں(اے ایف پی)</p>

jw id: 
BjTLF61A
type: 
SEO Title: 
جکارتہ سے نوسانتارا، انڈونیشیا دارالحکومت کیوں منتقل کر رہا ہے؟
Translator name: 
العاص
Read Entire Article
Chatroom