جنگ وسیع ہونے سے صحت کا نظام تباہ ہو سکتا ہے، یمن کے ڈاکٹروں نے خبردار کردیا

8 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
یمن میں حالیہ لڑائی میں شدت کے باعث ملک کا پہلے سے کمزور صحت کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ یمنی ڈاکٹروں اور عالمی طبی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو بعض علاقوں میں طبی خدمات مکمل طور پر بند ہونے کا خطرہ ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 6 اگست سے 29 ستمبر تک یمن میں 4,481 افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، جن میں 838 ہلاکتیں شامل ہیں۔ حالیہ لڑائی سے 130,000 سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جس سے ہسپتالوں اور بنیادی طبی مراکز پر مزید بوجھ پڑا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یمن میں پہلے ہی صرف تقریباً 60 فیصد طبی مراکز مکمل طور پر فعال تھے؛ اب کئی مراکز کو نقصان پہنچا ہے یا وہ بند ہوگئے ہیں۔ ہسپتالوں میں ادویات، آکسیجن، ایندھن، خون اور سرجری کا سامان کم پڑ رہا ہے۔ بعض مقامات پر زچگی کے وارڈز کو زخمیوں کے علاج کے لیے ہنگامی یونٹس میں تبدیل کرنا پڑا ہے۔ جنگ کے باعث بچوں میں غذائی قلت، ہیضہ، خسرہ اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ ہونیسیف کے مطابق قابلِ رسائی علاقوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران تقریباً 2,900 بچوں کی اسکریننگ میں ایک چوتھائی سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار پائے گئے۔
Read Entire Article
Chatroom