وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مبینہ طور پر بدعنوانی کے کیس میں 22 مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، جن میں وزارت خارجہ کے چھ اہلکار بھی شامل ہیں۔
ایف آئی اے کے ایک عہدے دار نے اتوار کو بتایا کہ ان افراد پر جعلی اپوسٹیل سٹیکرز اور جعلی دستاویزات تیار کرنے، گردش میں لانے اور استعمال کرنے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت وزارت خارجہ کے اپوسٹیل اور دستاویزات کی تصدیق کے نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔
یہ تحقیقات ان میڈیا رپورٹس کے بعد شروع ہوئیں جن میں غیر سرکاری ادائیگیوں اور اس عمل کے غلط استعمال کا ذکر کیا گیا تھا، جس کے ذریعے پاکستانی شہری بیرون ملک اپنے تعلیمی، قانونی اور دیگر دستاویزات کی منظوری حاصل کرتے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
اس سے قبل پاکستانی نشریاتی ادارے جیو نیوز نے ایک رپورٹ میں وزارت کے دستاویزات کی تصدیق کے نظام سے متعلق داخلی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ایک سال کے دوران غیر سرکاری ذرائع سے شہریوں سے 12 ارب روپے تک وصول کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ایجنٹوں کے نیٹ ورک کے ذریعے تقریباً آٹھ لاکھ دستاویزات کی تصدیق کی گئی۔
ایف آئی اے کے انسداد بدعنوانی سرکل نے اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں ایف اینڈ ایف پلازہ کے تہہ خانے میں واقع کئی کنسلٹنسی اور کوریئر دفاتر پر چھاپہ مارا۔
یہ کارروائی اسے ’جعلی اپوسٹیل سٹیکرز/مہروں اور تصدیق/اپوسٹیل خدمات سے متعلق جعلی پرچیاں تیار کرنے، گردش میں لانے اور استعمال کرنے‘ کے بارے میں معلومات ملنے کے بعد کی گئی۔
ایف آئی اے کے ترجمان نے اتوار کو عرب نیوز سے گفتگو میں تصدیق کی کہ ’کم از کم 22 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں وزارت خارجہ کے چھ اہلکار بھی شامل ہیں۔‘
پاکستان نے بیرون ملک استعمال کے لیے سرکاری دستاویزات کی تصدیق کے عمل کو آسان بنانے کے لیے 2024 میں اپوسٹیل نظام متعارف کرایا تھا۔
ایف آئی اے کی جانب سے درج شکایت کے مطابق پاکستان کے مختلف مقامات پر جعلی اپوسٹیل سٹیکرز اور پرچیاں گردش میں لائی جا رہی تھیں، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔
مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 420، 468، 471 اور 109 کے تحت درج کیا گیا ہے، جو دھوکہ دہی، جعل سازی، جعلی دستاویزات کے استعمال اور معاونت سے متعلق ہیں۔ اس کے ساتھ انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) بھی شامل کی گئی ہے۔
ایف آئی اے کی شکایت کی ایک نقل کے مطابق ’ایجنٹ مافیا نے اپوسٹیل/تصدیق کا عمل تیز کروانے کے لیے درخواست گزاروں سے بھاری رقم وصول کی جبکہ ایم او ایف اے (وزارت خارجہ) کے اہلکاروں کو عمل تیز کروانے کے لیے رشوت کی صورت میں ان کا حصہ ادا کیا گیا۔‘
ایف اینڈ ایف پلازہ میں چھاپے کے دوران مبینہ طور پر جعلی اپوسٹیل سٹیکرز، مہروں اور متعلقہ جعلی مواد کی تیاری، قبضے، گردش اور استعمال کے سلسلے میں کئی کنسلٹنسی اور کوریئر دفاتر کی تلاشی لی گئی۔
ایف آئی اے کی شکایت کے مطابق کارروائی کے دوران صوفی کنسلٹنٹس، ایکسیلنٹ کوریئر سروس، لیوپرڈ کوریئر سروسز، راک کنسلٹنسی، نون کنسلٹنٹس، جی ایم کنسلٹنٹس اور فیئر لائن سروس سے وابستہ 16 مشتبہ افراد کی شناخت ہوئی۔
شکایت میں نامزد وزارت خارجہ کے چھ اہلکاروں میں دستاویزات کی تصدیق اور اپوسٹیل خدمات پر مامور اہلکار شامل ہیں۔ ان میں سے ایک تصدیق کے شعبے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر یا اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکریٹری جبکہ ایک دوسرے کو اپوسٹیل خدمات کا انچارج بتایا گیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ اور چھاپے کے دوران جمع کی گئی معلومات نے مقدمہ درج کرنے اور تفصیلی تحقیقات شروع کرنے کے لیے کافی بنیاد فراہم کی۔
تحقیقات میں جعلی اپوسٹیل اسٹیکرز اور پرچیوں کے ماخذ کا پتا لگانے، یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ آیا وزارت خارجہ کے دیگر اہلکار یا سرکاری ملازمین بھی اس میں ملوث تھے، اور اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ مبینہ طور پر ملوث افراد نے مالی طور پر کیا فوائد حاصل کیے۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق گرفتار افراد کو ہفتے کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، جس نے ملزمان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے ابتدا میں اس نیٹ ورک سے متعلق میڈیا رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے اس بارے میں کوئی معلومات یا ریکارڈ دستیاب نہیں۔
بعد ازاں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 18 ستمبر کو تحقیقات کا حکم دیا اور پیٹرولیم سیکریٹری حامد یعقوب شیخ کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، جسے دو ہفتوں کے اندر مبینہ طریقہ کار کی خلاف ورزیوں، کوریئر کمپنیوں کے کردار اور وزارت خارجہ کے اہلکاروں کے ممکنہ ملوث ہونے کا جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
<p>18 جنوری، 2024 کی اس تصویر میں ایک سکیورٹی اہلکار اسلام آباد میں واقع دفتر خارجہ کے باہر پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)</p>
.png)
3 hours ago
2




English (US) ·