جامشورو: 1700 مردہ جنگلی پرندے برآمد، 5 ملزم گرفتار

1 hour ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

سندھ کے ضلع جامشورو میں محکمہ جنگلی حیات نے کارروائی کے دوران 1700 مردہ جنگلی پرندے برآمد کرتے ہوئے پانچ ملزم گرفتار کر لیے۔

ملزمان پر الزام ہے کہ وہ پرندوں کو جال کے ذریعے پکڑ کر فریزر میں محفوظ کرتے اور ان کا گوشت مختلف اضلاع میں فروخت کرتے تھے۔

محکمہ جنگلی حیات کے مطابق برآمد کیے گئے پرندوں میں بیبلر، کوٹس، ملرڈ، پن ٹیلز اور دیگر انواع شامل ہیں جو ذبح شدہ حالت میں ملے اور ان کی کھال اور پر بھی موجود تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

محکمہ جنگلی حیات کے چیف کنزرویٹر جاوید احمد مہر نے  بتایا کہ ملزمان مبینہ طور پر ان پرندوں کو کھانے کے قابل اور حلال قرار دے کر فروخت کرتے تھے حالانکہ برآمد شدہ پرندوں میں 700 سے زائد ایسے پرندے بھی شامل ہیں جنہیں کھانے کے لیے حلال تصور نہیں کیا جاتا۔

ان کے مطابق جنگلی پرندوں کی غیر قانونی تجارت صرف گوشت کی فروخت کا معاملہ نہیں بلکہ جنگلی حیات کے تحفظ سے بھی متعلق ہے کیونکہ ہر نوع کی اپنی ماحولیاتی اہمیت ہوتی ہے۔

پرندوں کو پکڑ کر گوشت کیسے فروخت کیا جاتا تھا؟

محکمہ جنگلی حیات کے مطابق ملزمان جنگلی پرندوں کو جال کے ذریعے پکڑتے، ذبح کرنے کے بعد فریزر میں محفوظ کرتے اور آرڈر ملنے پر مختلف اضلاع کی مارکیٹوں میں فروخت کے لیے سپلائی کرتے تھے۔

گرفتار ملزمان میں امام بخش ملاح، نظام الدین ملاح، راشد سولنگی، شاہنواز سولنگی اور سلطان ملاح شامل ہیں، جن کے خلاف سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 2020 کے تحت مقدمہ نمبر 11 درج کیا گیا ہے۔

محکمے کے مطابق مقدمہ سمری ٹرائل کے لیے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج جامشورو کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

چھ سال میں جنگلی حیات کے 440 مقدمات

محکمہ جنگلی حیات کے اعداد و شمار کے مطابق 2020 سے 2026 کے دوران جنگلی حیات سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر مجموعی طور پر 440 مقدمات درج کیے گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان میں سے 309 مقدمات کے فیصلے عدالتیں سنا چکی ہیں، جبکہ 131 مقدمات اب بھی زیر سماعت ہیں۔

چیف کنزرویٹر جاوید احمد مہر کے مطابق ان مقدمات میں سزا کی شرح 70 فیصد ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے حکومتی سطح پر متعدد اقدامات کیے گئے ہیں جن میں متعلقہ قوانین کا ازسرنو جائزہ اور منظوری، خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سزاؤں اور جرمانوں میں اضافہ اور مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے سمری ٹرائل کا طریقہ کار شامل ہیں۔

ان کے مطابق سیشن جج کی عدالت کو ٹرائل کورٹ قرار دیا گیا ہے تاکہ جنگلی حیات سے متعلق مقدمات کی سماعت اور فیصلوں کا عمل تیز کیا جا سکے۔

محکمہ جنگلی حیات کے مطابق جامشورو، دادو، قمبر، ٹھٹھہ، سجاول اور بدین جنگلی پرندوں کی غیر قانونی تجارت کے اہم مراکز میں شمار ہوتے ہیں۔

ان علاقوں میں پرندوں کے غیر قانونی شکار اور تجارت کی روک تھام کے لیے دفعہ 144 کے تحت پابندی بھی نافذ کی جا چکی ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کے مطابق ’ملزمان مبینہ طور پر ان پرندوں کو کھانے کے قابل اور حلال قرار دے کر فروخت کرتے تھے‘۔
منگل, اکتوبر 27, 2026 - 22:15
Main image: 

<p class="rteright">محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے 27 اکتوبر، 2026 کو جاری کی گئی تصویر میں کارروائی کے دوران پکڑے گئے افراد(محکمہ جنگلی حیات سندھ)</p>

type: 
SEO Title: 
جامشورو: 1700 مردہ جنگلی پرندے برآمد، 5 ملزم گرفتار
Read Entire Article
Chatroom