تقسیم ہند 1947: وہ جگہیں جو ہمیں ورثے میں ملیں

3 hours ago 2

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

کچھ سفر ایک سوٹ کیس سے شروع ہوتے ہیں اور کچھ اس سے بہت پہلے، کھانے کی میز پر سنائی جانے والی کسی کہانی، محبت سے لیے جانے والے کسی نام یا ایک ایسے گھر کی تصویر سے جنم لیتے ہیں جسے آپ نے کبھی دیکھا نہ ہو، مگر کسی نہ کسی طرح محسوس کرتے ہوں کہ آپ اسے جانتے ہیں۔

میرے لیے وہ سفر 1947 میں شروع ہوا۔

تقسیم نے ہمیں برطانوی راج سے آزادی دی اور پاکستان کا قیام عمل میں آیا، مگر یہ آزادی ایک ناقابلِ برداشت قیمت کے ساتھ آئی۔ لاکھوں لوگ ان گھروں سے بے دخل ہو گئے جنہیں وہ ہمیشہ اپنا گھر سمجھتے تھے۔ خاندان بچھڑ گئے، سفر ہجرت میں بدل گئے اور بچپن کی سادہ سی جغرافیہ، یعنی گھر، سکول، محلہ، بازار، مسجد، مندر یا ریلوے سٹیشن، اچانک ایک سرحد کے ذریعے تقسیم ہو گئی۔

لوگ وہی کچھ ساتھ لے جا سکے جو اٹھا سکتے تھے۔ بہت سے لوگ یہ جانے بغیر روانہ ہوئے کہ کیا وہ کبھی اپنے گھروں کو دوبارہ دیکھ سکیں گے۔

اور بہت سے لوگ دوبارہ کبھی انہیں نہ دیکھ سکے۔

لیکن شاید تقسیم کے کم دکھائی دینے والے زخموں میں سے ایک صرف گھروں کا کھو جانا نہیں تھا، بلکہ عام خاندانی زندگی کا کھو جانا تھا۔

وہ کزن جو کبھی ایک ساتھ بڑے نہ ہو سکے۔ وہ بہنیں جو دوبارہ کبھی ایک ہی برآمدے میں بیٹھ نہ سکیں۔ وہ بھائی جو ایک دوسرے کو زیادہ تر خطوط، تصویروں اور کہانیوں کے ذریعے ہی جان سکے۔ وہ سالگرہیں، شادیاں، تہوار اور خاندانی تقریبات جو کبھی منعقد ہی نہ ہو سکیں۔

ایسے بچے تھے جو اُن کزنز کے بارے میں سنتے ہوئے بڑے ہوئے، جن سے وہ کبھی ملے ہی نہیں۔ ایسے دادا دادی اور نانا نانی تھے جو صرف تصور ہی کر سکتے تھے کہ سرحد کے دوسری طرف کیا منظر ہوگا۔ ایسے خاندان تھے جنہوں نے فاصلے کو میلوں میں نہیں بلکہ یادوں میں ناپنا سیکھ لیا۔

میرا اپنا خاندان بھی اس عظیم داستان کا ایک چھوٹا سا حصہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

میرے والد اُس علاقے میں پلے بڑھے جو آج انڈیا کی ریاست اتر پردیش کہلاتی ہے۔ اُن کا بچپن وہاں کی گلیوں، بازاروں، کوچوں اور محلوں سے جڑا ہوا تھا، ایسی جگہوں سے جو اُن کی یادوں میں اس وقت بھی زندہ رہیں جب وہ اُن کی دسترس سے باہر ہو چکی تھیں۔

وہ پاکستان ہجرت کر آئے۔

لیکن سب لوگ نہیں آئے۔

ان کی بہنیں وہیں رہ گئیں۔

اور یہ ایک مختصر سا جملہ اپنے اندر ایک پوری زندگی سموئے ہوئے ہے۔

میرے والد نے کبھی اپنی زندگی تلخی یا حسرت کے ساتھ ماضی کی طرف دیکھتے ہوئے نہیں گزاری۔ وہ پاکستان میں بنائے گئے اپنے گھر سے محبت کرتے تھے۔ یہ اُن کا ملک تھا، اُن کا خاندان تھا، اُن کی زندگی تھی۔ انہوں نے اپنا مستقبل یہاں تعمیر کیا اور اسے پوری دلجمعی سے قبول کیا۔

لیکن وہ اپنی گزری ہوئی زندگی کا ذکر محبت سے ضرور کرتے تھے۔

بچپن میں ہم اُن سے اتر پردیش کے قصے سنتے تھے، اُن جگہوں کی باتیں جنہیں وہ جانتے تھے، اُن لوگوں کا ذکر جن کے ساتھ وہ بڑے ہوئے، اُن گلیوں کا تذکرہ جن سے وہ گزرتے تھے اور اُن محلوں کا جن سے اُن کی وابستگی تھی۔ بعض اوقات یہ محض گفتگو کے دوران کیے جانے والے مختصر تبصرے ہوتے، ایک ایسے بچپن کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جو تقریباً آٹھ دہائیاں پہلے ختم ہو چکا تھا۔

لیکن وہ چھوٹی چھوٹی کہانیاں میرے ساتھ رہ گئیں۔

بچپن میں میں انہیں سنتی رہی، شاید اس بات کو پوری طرح سمجھے بغیر کہ میں کیا سن رہی ہوں۔ لیکن جیسے جیسے میں بڑی ہوتی گئی، کچھ بدلنے لگا۔ میں ان کہانیوں کے پیچھے موجود جگہوں کو دیکھنے کی خواہش محسوس کرنے لگی۔

میں وہ گلیاں دیکھنا چاہتی تھی جہاں میرے والد بڑے ہوئے تھے۔ وہ سکول جہاں وہ پڑھتے تھے۔ وہ بازار جسے وہ جانتے تھے۔ وہ محلہ جہاں انہوں نے بچپن میں کھیل کود کی تھی۔ وہ عام سی سڑکیں جو ان کی ابتدائی یادوں کا پس منظر تھیں۔

میں وہاں کھڑی ہونا چاہتی تھی جہاں کبھی وہ کھڑے ہوئے تھے۔ اس لیے نہیں کہ انہوں نے مجھ سے ایسا کرنے کو کہا تھا، یا اس لیے کہ وہ ساری زندگی واپس جانے کی خواہش کرتے رہے تھے، بلکہ اس لیے کہ رفتہ رفتہ اُن کی یادیں میری اپنی یادوں کا حصہ بن گئی تھیں۔

ورثے میں ملنے والی یادوں کی ایک عجیب بات یہ ہے کہ آپ کسی ایسی جگہ کے لیے تڑپ محسوس کر سکتے ہیں جہاں آپ کبھی رہے ہی نہ ہوں۔

آپ ایسے گھر سے وابستگی محسوس کر سکتے ہیں جس میں آپ کبھی داخل نہیں ہوئے۔ آپ نقشے پر کسی سڑک کو دیکھ کر سوچ سکتے ہیں کہ شاید آپ کے والد بچپن میں اسی سڑک پر چلے ہوں۔

شاید صرف وہی لوگ اس احساس کو صحیح طور پر سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اسے خود محسوس کیا ہو، جو میرے جیسے گھر میں پلے بڑھے ہوں، جنہوں نے اُس خاندانی گھر کی کہانیاں سن کر زندگی گزاری ہو جو پیچھے رہ گیا تھا، اور جن کے حصے میں ایسی جغرافیائی شناخت آئی ہو جو ایک سرحد کے پار موجود ہو۔

زندگی نے البتہ اس فاصلے کو آسان نہیں بنایا۔

میرے والد کی پیشہ ورانہ زندگی پر اپنی نوعیت کی پابندیاں تھیں۔ وہ ایک ایسے ادارے سے وابستہ تھے جہاں انڈیا جانا صرف فیصلہ کر لینے بھر کا معاملہ نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اُن کے لیے اور اُن کے بچوں کے لیے بھی سرحد ایک حقیقی رکاوٹ بنی رہی۔ یہاں تک کہ جب سفر کے مواقع موجود تھے، تب بھی ایسی جگہیں تھیں جہاں ہم آسانی سے نہیں جا سکتے تھے، اور ایسے رشتہ دار تھے جن سے ہم بس یونہی جا کر نہیں مل سکتے تھے۔

یوں جدائی ایک اور نسل تک پھیل گئی۔

ان کی بہنیں وہیں رہیں۔ ان کے بچے وہیں بڑے ہوئے۔ اور ہم یہاں بڑے ہوئے۔

ہم ایک دوسرے کے بارے میں جانتے تھے۔ ہم نے ان کے نام سنے، تصویریں دیکھیں اور خاندانی اجتماعات، بچپن کی یادوں اور اُن جگہوں کے بارے میں کہانیاں سنیں جہاں میرے والد بڑے ہوئے تھے۔ لیکن زندگی کے کچھ عام تجربات ایسے تھے جو کبھی پیش نہ آ سکے: وہ کزن جو ایک ساتھ بڑے نہ ہو سکے، اچانک ہونے والی ملاقاتیں، مشترکہ بچپن کی مہم جوئیاں، اور وہ شادیاں و خاندانی تقریبات جہاں سب لوگ ایک ہی کمرے میں جمع ہو سکتے۔

شاید سرحدیں یہی سب سے بڑا ظلم کرتی ہیں: وہ خاندان کے عام لمحات کو نایاب نعمت بنا دیتی ہیں۔

جب حالات، وقت اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں نے بالآخر سفر کو ممکن بنایا تو یہ سفر محض سیاحت سے کہیں بڑھ کر اہمیت اختیار کر گئے۔ انہوں نے 1947 میں بٹ جانے والی خاندانی تاریخ کی جھلک دکھائی، رشتہ داروں سے ملنے، ناموں کو چہروں سے جوڑنے، اور میرے والد کے لیے شاید ایک بار پھر اپنے بچپن کے منظرنامے میں کھڑے ہونے کا موقع فراہم کیا۔

لیکن میرے لیے ان جگہوں کو دیکھنے کی خواہش برسوں سے خاموشی کے ساتھ پروان چڑھ رہی تھی۔

شاید اسی لیے نیٹ فلکس پر ’میں واپس آؤں گا‘ دیکھ کر میرے دل میں ایک گہرا احساس جاگ اٹھا۔

اس فلم نے نہ صرف تقسیم کے باعث بچھڑ جانے والے لوگوں کی یاد تازہ کر دی بلکہ اُن جسمانی جگہوں کی بھی، جو پیچھے رہ گئی تھیں۔ وہ گلیاں۔ وہ بازار۔ وہ محلے۔ وہ عام سے گوشے جہاں بچپن پروان چڑھا تھا۔

میں اپنے والد کے بارے میں سوچنے لگی۔ میں نے تصور کیا کہ وہ ایک بار پھر اتر پردیش کی ان مانوس گلیوں میں چل رہے ہیں۔ شاید بازار کی آوازیں یاد کر رہے ہیں۔ شاید کسی موڑ کو اُس پر پہنچنے سے پہلے ہی پہچان لیتے ہیں۔ شاید سوچ رہے ہیں کہ کیا کچھ بدل گیا اور کیا، حیران کن طور پر، ویسا ہی باقی رہا۔

اور میں سوچنے لگی کہ میرے لیے ان گلیوں میں جا کر کھڑا ہونا کیسا ہوگا۔

کیا وہ ویسی ہی دکھائی دیں گی جیسا انہیں میرے والد یاد کرتے تھے؟ کیا سکول اب بھی موجود ہوگا؟ کیا وہ محلہ میرے لیے بھی مانوس محسوس ہوگا، حالانکہ میں وہاں کبھی نہیں رہی؟ کیا میں کسی چیز کو صرف اس لیے پہچان لوں گی کہ میں اس کے بارے میں بار بار سن چکی ہوں؟

کسی ایسی جگہ کو دیکھنے کی خواہش میں ایک گہرا جذباتی پہلو ہوتا ہے جسے آپ نے خود کبھی نہ جانا ہو، صرف اس لیے کہ کوئی ایسا شخص جس سے آپ محبت کرتے ہیں، کبھی اس جگہ سے وابستہ رہا ہو۔

اسی طرح جگہیں بھی ہمارے ورثے کا حصہ بن جاتی ہیں۔

میں اپنی زندگی میں بہت سی جگہوں پر گئی ہوں، لیکن بعض اہم ترین سفر وہ نہیں جو میں نے خود کیے۔ وہ سفر ہیں جو میں نے اپنے سے پہلے آنے والوں کی یادوں کے ذریعے کیے ہیں۔

اور تقسیم نے ہماری نسلوں کو تعلق اور وابستگی کی ناپائیداری کے بارے میں ایک اہم سبق دیا ہے۔

نقشے پر ایک سرحد چند گھنٹوں میں کھینچی جا سکتی ہے، لیکن خاندان اتنی جلدی اجنبی نہیں بنتے۔ یادیں جغرافیے کی پابند نہیں ہوتیں۔ بچپن سرحدوں کو نہیں سمجھتا۔

1947 کا المیہ صرف یہ نہیں تھا کہ لوگ ایک ملک سے دوسرے ملک چلے گئے۔ اصل المیہ یہ تھا کہ انہیں اپنے وجود کے کچھ حصے پیچھے چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔

گھر یادیں بن گئے۔ پڑوسی کہانیاں بن گئے۔ خاندانی اجتماعات تصویروں میں بدل گئے اور پوری کی پوری نسلیں دسترخوان پر ایک ایسی غیر مرئی کمی کے ساتھ بڑی ہوئیں جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

لیکن اس کہانی کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دل شکستہ ہو جانے کے باوجود لوگوں نے زندگی دوبارہ تعمیر کی۔ انہوں نے نئے گھر بنائے۔ بچوں کی پرورش کی۔ جب بھی ممکن ہوا فاصلے عبور کیے۔ دوبارہ جڑنے کے راستے تلاش کیے۔ انہوں نے زبانیں، کھانے کی ترکیبیں، گیت، تصاویر، روایات اور یادیں سرحدوں کے پار منتقل کیں۔

وہ زندہ رہے۔

‘شاید آج ہم ان کے مقروض ہیں کہ ان کی نفرت نہیں بلکہ ان کی انسانیت کو ورثے میں لیں۔’

تقسیم کو تقریباً آٹھ دہائیاں گزر چکی ہیں، لیکن زخم مکمل طور پر مندمل نہیں ہوئے۔ بعض خاندان اب بھی ایسے نقصان کی کہانیاں اپنے اندر لیے ہوئے ہیں جن پر کبھی کھل کر بات نہیں کی گئی۔ مگر شاید ہماری نسل کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ 1947 کو ایک مختلف انداز سے یاد کرے۔

صرف ایک سیاسی واقعے کے طور پر نہیں۔

صرف دو ممالک کے قیام کے طور پر نہیں۔

بلکہ لاکھوں انفرادی انسانی کہانیوں کے مجموعے کے طور پر۔

ایک باپ جس نے اپنا بچپن کا گھر چھوڑ دیا۔ ایک ماں جو اپنی بہن سے جدا ہو گئی۔ ایک بھائی جو اپنے بہن بھائیوں سے بچھڑ گیا۔ ایک بچہ جو اپنے کزنز کو جانے بغیر بڑا ہوا۔ ایک خاندان جو کسی خط کا انتظار کرتا رہا۔ ایک تصویر جو احتیاط سے دراز میں سنبھال کر رکھی گئی۔ ایک گلی جو دہائیوں تک یاد رہی۔ اور ایک خواہش، جو بعض اوقات اتنی خاموش ہوتی ہے کہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو جاتی ہے، صرف واپس جا کر یہ دیکھنے کی خواہش کہ سب کچھ کہاں سے شروع ہوا تھا۔

میرے لیے یہ خواہش بہت ذاتی نوعیت رکھتی ہے۔

میں اپنے والد کے بچپن کے گھر میں پیدا نہیں ہوئی۔ میں ان گلیوں میں نہیں چلی۔ میں ان بازاروں کو نہیں جانتی تھی جنہیں وہ جانتے تھے۔

لیکن چونکہ وہ جانتے تھے، اس لیے ان جگہوں کا ایک چھوٹا سا حصہ میرا بھی ہے۔

شاید یہی تقسیم کا عجیب ورثہ ہے: ہمیں ممالک ورثے میں ملے، لیکن ان جگہوں کی یادیں بھی ملیں جو سرحد کے دوسری طرف موجود ہیں۔

اور کبھی کبھی، جب کوئی فلم، کوئی تصویر، کوئی گیت یا کوئی کہانی اس پرانے دروازے کو کھول دیتی ہے، تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ گھر واپسی کا سفر ہمیشہ کسی جگہ کی طرف لوٹنے کا نام نہیں ہوتا۔

کبھی کبھی یہ کسی یاد کی طرف لوٹنے کا سفر ہوتا ہے۔

یہ سمجھنے کا سفر کہ ہمارے والدین کہاں سے آئے تھے۔

اس بچپن کا تصور کرنے کا سفر جو وہ پیچھے چھوڑ آئے۔

ان لمحات پر سوگ منانے کا سفر جو ہمارے خاندانوں کو کبھی نصیب نہ ہو سکے۔

اور بالآخر یہ سمجھنے کا سفر کہ آزادی ہمیں کبھی بھی اس عظیم انسانی قیمت کو فراموش نہیں کرنے دینی چاہیے جو اس کے ساتھ ادا کی گئی تھی۔

ہمیں ایک ملک ملا۔

لیکن بے شمار خاندانوں نے اس آزادی کی قیمت اپنے گھروں، سفر، رشتوں، یادوں اور اپنے دلوں کے ٹکڑوں سے ادا کی۔

شاید ان کے لیے سب سے موزوں خراجِ عقیدت یہ نہیں کہ ہم 1947 کے درد میں قید رہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ایسا مستقبل تعمیر کریں جس میں کسی نسل کو دوبارہ اس نوعیت کی جدائی نہ جھیلنی پڑے۔

ایسا مستقبل جہاں ممالک کے درمیان سرحدیں تو موجود ہوں، مگر دلوں کے درمیان نہیں۔

اور شاید، اس تمام داستان میں کہیں، میرے والد کی پرانی گلیاں صرف اتر پردیش میں ہی نہیں بلکہ اُن کہانیوں میں بھی زندہ ہیں جو وہ ہمارے لیے چھوڑ گئے۔

ایسی جگہیں جہاں میں کبھی نہیں رہی۔

ایسی جگہیں جنہیں میں شاید کبھی پوری طرح جان نہ سکوں۔

لیکن کسی نہ کسی طرح، وہ مجھے گھر جیسی محسوس ہوتی ہیں۔

اتر پردیش کی گلیوں میں پروان چڑھنے والے ایک باپ کی کہانی، جنہیں وہ پیچھے چھوڑ آیا تھا اور ایک بیٹی کی اس گھر کے لیے تڑپ جس میں وہ کبھی نہیں رہی۔
ہفتہ, اگست 29, 2026 - 08:15
Main image: 

<p class="rteright">13 جون 2017 کو انڈین وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کی گئی ایک غیر تاریخ شدہ ہینڈ آؤٹ تصویر، جو غالباً 1947 یا 1948 میں لی گئی تھی، جس میں نئی دہلی میں ہمایوں کے مقبرے کے قریب بے گھر ہونے والے مسلمانوں کا ایک کیمپ دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
تقسیم ہند 1947: وہ جگہیں جو ہمیں ورثے میں ملیں
Read Entire Article
Chatroom