Want Your Business Featured Here?
Get instant exposure to our readers
Chat on WhatsApp
بھارت کے معروف روحانی رہنما سادھ گرو نے دعویٰ کیا ہے کہ تبت میں ماؤنٹ کیلاش کی یاترا سے واپس آنے والے ان کے ادارے کے 77 یاتری چین کے سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے تباہ کن سیلاب کی زد میں آ کر لاپتا ہوگئے ہیں۔
سادھ گرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ یاتریوں کا گروپ چین کے علاقے گیرونگ میں واقع سرحدی اسٹیشن پر موجود تھا جب اچانک آنے والے سیلابی ریلے نے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
سادھ گرو نے کہا کہ امیگریشن دفتر میں موجود افراد کے بارے میں تاحال کوئی سرکاری اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ان کے بقول متاثرہ افراد ماؤنٹ کیلاش کی یاترا مکمل کرنے کے بعد واپس آ رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تنظیم حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ متاثرہ مقام تک پہنچنے اور ممکنہ امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا سکے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں گیرونگ سرحدی بندرگاہ کے قریب لوگوں کو اچانک آنے والے شدید سیلابی ریلے سے بچنے کے لیے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں کیچڑ سے بھرا پانی تیزی سے پورے عمارت کے احاطے میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
گیرونگ چین اور نیپال کے درمیان ایک اہم زمینی سرحدی گزرگاہ ہے جہاں سے دونوں ممالک کے درمیان آمدورفت ہوتی ہے۔ حالیہ شدید بارشوں کے باعث خطے کے مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ماؤنٹ کیلاش ہندو مت کے علاوہ بدھ مت، جین مت اور تبتی مذہب بون کے پیروکاروں کے لیے بھی انتہائی مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔ سادھ گرو کی تنظیم ایشا فاؤنڈیشن ہر سال ماؤنٹ کیلاش اور مانسروور کے لیے متعدد یاترا پروگرام منعقد کرتی ہے۔
تاہم لاپتا افراد کی صورتحال کے حوالے سے حتمی معلومات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں اور یہ واضح نہیں کہ 77 افراد میں سے کتنے افراد محفوظ ہیں یا ان کی تلاش کے لیے ریسکیو کارروائی کہاں تک پہنچی ہے۔
حکام کی جانب سے مزید تفصیلات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔