بیریئر ہٹانے کا کیس: وکلا کا بائیکاٹ، ایمان اور ہادی کی غیر موجودگی میں ٹرائل شروع

2 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ہفتے کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکلا کی جانب سے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کے بعد دونوں ملزمان کی غیر موجودگی میں ٹرائل شروع کر دیا گیا۔ عدالت نے استغاثہ کے تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے اور مزید گواہوں کو پیر (12 اکتوبر) کو طلب کر لیا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف درج اس مقدمے میں پولیس کا الزام ہے کہ ملزمان نے اسلام آباد میں ایک احتجاج کے دوران حکومت مخالف نعرے لگائے، سڑکیں بلاک کیں اور سرکاری امور میں مداخلت کی۔ مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 سمیت تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔

دونوں ملزمان نے ان دفعات کو چیلنج کر رکھا ہے، جبکہ فردِ جرم کے خلاف بھی اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے، جو کہ رواں ماہ سات اکتوبر کو عائد کی گئی تھی۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ہفتے کو اس کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت عدالتی حکم کے باوجود ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ابتدا میں جیل سے ذاتی حیثیت میں عدالت پیش نہیں کیا جا سکا، جس پر جج نے جیل حکام سے جواب طلب کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدالت نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ وہ وضاحت کریں کہ دونوں ملزمان کو پیش کیوں نہیں کیا گیا۔ عدالت نے 11 بجے تک واٹس ایپ کے ذریعے تحریری رپورٹ بھی طلب کی۔

بعد ازاں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا۔

سماعت کے دوران ملزمان کی وکیل زینب جنجوعہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف فردِجرم کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے اور اس معاملے کی سماعت پیر کو مقرر ہے، اس لیے انسداد دہشت گردی عدالت کو فی الحال کارروائی آگے نہیں بڑھانی چاہیے۔

جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ ’اگر فردِ جرم درست طور پر عائد نہیں ہوئی تو ہائی کورٹ اسے ختم کر سکتی ہے۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اعلیٰ عدالتیں اس معاملے پر پہلے ہی ہدایات دے چکی ہیں اور جب ٹرائل روکنے کا حکم موجود نہیں تو کارروائی کیوں روکی جائے۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے جج سے مکالمہ کیا۔ ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ وہ عدالت کا احترام کرتے ہیں اور ان کے نزدیک منصفانہ ٹرائل کے بغیر مقدمے کی کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ انہیں عدالتی حکم کے باوجود ذاتی حیثیت میں عدالت کیوں پیش نہیں کیا گیا۔

بعد ازاں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا۔ وکیل زینب جنجوعہ نے اعتراض کیا کہ دونوں ملزمان کی ویڈیو لنک پر عدم موجودگی کے دوران کارروائی کی گئی اور اس اعتراض کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کی استدعا کی۔

وکلا نے ایڈووکیٹ ریاست علی آزاد کی عدم موجودگی اور ان کی مصروفیت کا حوالہ دیتے ہوئے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست بھی کی، تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی۔

عدالت نے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے سے متعلق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواست بھی مسترد کر دی۔

جج طاہر عباس سپرا نے قرار دیا کہ اس مرحلے پر درخواست نہیں دیکھی جا سکتی اور وہ اپنے سابقہ حکم پر نظرثانی کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

وکلا کے بائیکاٹ کے بعد عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی عدم موجودگی میں ٹرائل کی کارروائی شروع کرتے ہوئے استغاثہ کے تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔

ان میں ایف آئی آر کا گواہ، محرر اور جامہ تلاشی کے گواہ شامل تھے۔ عدالت نے استغاثہ کے باقی گواہوں کو پیر کے روز طلب کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے ہفتے کو استغاثہ کے تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے اور مزید گواہوں کو 12 اکتوبر کو طلب کر لیا۔
ہفتہ, اکتوبر 10, 2026 - 14:00
Main image: 

<p class="rteright">20 اگست 2023 کو اسلام آباد میں پولیس اہلکار وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری&nbsp;(درمیان) کو عدالت میں پیش کر رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>

type: 
SEO Title: 
بیریئر ہٹانے کا کیس: وکلا کا بائیکاٹ، ایمان اور ہادی کی غیر موجودگی میں ٹرائل شروع
Read Entire Article
Chatroom