بلوچستان: وقت ہے کہ ہم تسلیم کریں کہ کیا چیز کام نہیں کر رہی
بلوچستان میں پچھلے کئی دہائیوں میں ہونے والے تشدد کے واقعات، جہاں ایک طرف لوگ اپنی زندگیوں کو معمول پر لانے کی کوشش کرتے ہیں، دوسری طرف مسلح گروہوں کے مسلسل حملوں کے نتیجے میں، ایک حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ کیا چیز پائیدار امن فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہ سوال نہ صرف بلوچستان کے لیے بلکہ پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
Background & Context
میں نے 1988 میں پاکستان پولیس سروس میں شمولیت اختیار کی تھی اور میری پہلی تعیناتی بلوچستان کے ضلع زیارت میں تھی۔ اس وقت ایک پرامن ضلع تھا، صرف دو پولیس تھانے ایک باہم جڑے ہوئے معاشرے کی خدمت کر رہے تھے۔
زیارت نے مجھے اپنے قدیم جونیپر کے جنگلات سے متعارف کروایا۔ ان درختوں کی مضبوطی ان کی گہری جڑوں اور تسلسل میں پوشیدہ تھی۔ یہ سبق 1990 کے عام انتخابات کے دوران میں ایک اہم سبق سیکھنے میں مددگار ثابت ہوا۔ جہاں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہوں اور تعلقات گہرے ہوں، وہاں پوشیدہ عناصر کے لیے واقعات کو اپنے حق میں موڑنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
Key Details
بلوچستان کے ضلع زیارت میں صبر سے بڑھتے رہنے والے جونیپر درختوں کی طرح، لوگوں کے درمیان بداعتمادی نے جڑیں پکڑ لیں اور بالآخر وہ آج کی شورش کی شکل اختیار کر گئی۔
اگلی دہائی کے دوران میں میں نے صوبے کو بدلتے دیکھا۔ جو مسئلہ پہلے محض امن و امان کا ایک معمول کا چیلنج تھا، وہ آہستہ آہستہ قومی اور علاقائی جہتوں کے حامل ایک طویل تنازع میں تبدیل ہو گیا۔
زیارت کے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر کو ملا سلام نے، جو راکٹی کے نام سے مشہور تھا، اغوا کر لیا تھا۔ برسوں بعد قائداعظم ریزیڈنسی کی ہولناک تباہی کا واقعہ پیش آیا۔ ہر بڑے واقعے کے بعد سرکاری پیغام ایک ہی رہتا تھا: شدت پسندوں کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ مگر تشدد بار بار واپس آتا رہا، اکثر نئی شکلوں اور پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ۔
What Experts Say
بلوچستان میں طویل تنازع کے دوران میں طاقت کا استعمال آخری راستہ رہنا چاہیے، جو قانون کی حکمرانی کے دائرے میں اور صرف ذمہ دار افراد کے خلاف کیا جائے۔ اجتماعی سزا شاذ و نادر ہی شورشوں کو ختم کرتی ہے، اکثر یہ انہیں مزید طول دیتی ہے۔
Key Takeaways
- بلوچستان میں طویل تنازع کے دوران میں طاقت کا استعمال ناکام رہا ہے۔
- مصالحت اور سیاسی حل کے لیے وقت آ گیا ہے۔
- لائیسنسدہ تانے بانے، جھڑپوں اور ہلاکتوں سے متعلق واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہٹ سکتا۔
- آج کے دن بلوچستان کے لیے ایک ایسا وقت آ گیا ہے جب ہم اپنی سوچ اور اپنے عمل میں تبدیلی لانے کے لیے تیار ہو جائیں۔
What This Means For You
بلوچستان میں ہونے والے واقعات سے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ پائیدار امن فراہم کرنے کے لیے ہمیں ایک نیا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنا ہو گا اور ہمیں اپنے عمل میں تبدیلی لانے کے لیے تیار ہونا ہو گا۔
آج کے دن بلوچستان کے لیے ایک ایسا وقت آ گیا ہے جب ہم اپنی سوچ اور اپنے عمل میں تبدیلی لانے کے لیے تیار ہو جائیں۔
.png)
4 weeks ago
9




English (US) ·