بابری مسجد کی جگہ بنائے گئے رام مندر کے چندے میں خردبرد کی کہانی ہے کیا؟

3 months ago 24

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
BABRI MASJID KI JAGAH BANE HUE RAM MANDIR KAY CHANDE MAIN KHURD BARD KI KAHANI HAI KI?

ایودھیا ہندو مندر کے چندے میں خوردبرد کی کہانی کی وضاحت کی گئی ہے، جس سے یہ ہندو مندر ایک اور تنازعے میں الجھ کر رہ گیا ہے۔ حکومت کو تحقیقاتی رپورٹ ملنے کے بعد، مندر کا انتظام سنبھالنے والے ٹرسٹ نے پولیس میں باقاعدہ شکایت درج کرائی، جس کے نتیجے میں چوری، نقدی کے غبن، اور فنڈز اور قیمتی اشیا کی خورد برد کے الزام میں آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

Background & Context

ایودھیا کا رام مندر ایک بہت بڑا مندر ہے، جو شمالی ریاست اتر پردیش میں واقع ہے۔ اس مندر کا افتتاح دو سال قبل ایک ایسی تقریب میں کیا گیا تھا جسے ’زندگی میں ایک بار‘ آنے والے موقع کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ تقریب میں انڈین سیاست اور ثقافت کی اہم ترین شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی تھی۔

ہندو دیوتا رام سے منسوب یہ مندر قرون وسطیٰ کی بابری مسجد کی جگہ پر تعمیر کیا گیا تھا۔ 1992 میں ہندو ہجوم نے مسجد کو مسمار کر دیا تھا۔ مندر کی تعمیر سے انڈیا کے ہندو قوم پرست حلقوں کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہوا، جن میں نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی بھی شامل ہے۔

Key Details

کئی ماہ سے یہ الزامات گردش کر رہے تھے کہ ہندوؤں کی جانب سے دیے گئے چندے کی بھاری رقوم مندر کے انتظام میں شامل کچھ افراد خورد برد کر رہے ہیں۔ اس پر بی جے پی کی زیر قیادت ریاستی حکومت تحقیقات کا حکم دینے پر مجبور ہو گئی۔

مندر میں روزانہ 70 سے 80 ہزار ہندو آتے ہیں۔ پولیس کے مطابق، ان میں سے زیادہ تر افراد چندے کی رقم جمع کرنے، گننے اور اسے منتقل کرنے کے کام میں شامل تھے۔

پولیس نے گرفتاری کی ایک رپورٹ میں کہا، ’ایس آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ اور دستیاب زبانی، دستاویزی اور الیکٹرانک شواہد سے یہ واضح ہے کہ چندہ گننے کے لیے تعینات کچھ ملازمین نے تواتر کے ساتھ چوری اور خورد برد کر کے جرم کا ارتکاب کیا۔‘

What Experts Say

جسٹس ایس بی سین کی زیر سرپرستی ایک تحقیقاتی ٹیم نے مندر کے انتظام میں کم از کم 30 ارب روپے کا غلط استعمال کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مندر کی تعمیر کے لیے دی جانے والی نقدی کا بیشتر حصہ ’غلط استعمال‘ میں چلا گیا ہے۔

Key Takeaways

  • ایودھیا ہندو مندر کے چندے میں خوردبرد کی کہانی کی وضاحت کی گئی ہے۔
  • ہندوؤں کی جانب سے دیے گئے چندے کی بھاری رقوم مندر کے انتظام میں شامل کچھ افراد خورد برد کر رہے ہیں۔
  • مندر میں روزانہ 70 سے 80 ہزار ہندو آتے ہیں۔
  • پولیس نے چندہ گننے کے لیے تعینات کچھ ملازمین کو چوری اور خورد برد کر کے جرم کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا ہے۔

What This Means For You

اس کے بعد سے ہندو مندر کے چندے میں بڑی تعداد میں لوٹ مار کی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے ہندوؤں کے مابین بڑا گھماسہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکومت کو یہ صورتحال کب تک چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت کو اس کی تحقیقات میں تیزی لانے کی ضرورت ہے تاکہ لوٹے ہوئے پیسوں کا حساب کیا جا سکے۔

اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے حکومت کو کھلے دل سے کام کرنا ہوگا۔ ہر جگہ ایسے افراد کو گرفتار کیا جانا چاہیے جو چندے میں لوٹ مار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت کو مندر کے انتظام میں بڑھتی ہوئی نفری کو کم کرنا چاہیے تاکہ اس میں کوئی بھی فرد چوری اور خورد برد کرنے کے لیے کسی بھی قسم کی کوشش نہ کر سکے۔

Read Entire Article
Chatroom