ایک ماہ تک ہر کھانے کے بعد 15 منٹ چہل قدمی کے حیرت انگیز اثرات

2 hours ago 3

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

میں ہمیشہ ایسی آسان اور قابلِ عمل فٹنس تجاویز کی تلاش میں رہتا ہوں جو واقعی کارآمد ثابت ہوں اور مجھے نہیں لگتا کہ کھانے کے بعد کچھ دیر چلنے سے زیادہ آسان کوئی اور مشورہ ہو سکتا ہے۔

یہ صحت سے متعلق وہ مشورہ ہے جو مجھے فٹنس ماہرین کی جانب سے سب سے زیادہ دیا جاتا ہے، لہٰذا اگر آپ نئے موسم کے آغاز پر اپنے روزمرہ معمولات میں کچھ تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو یہ عادت آپ کے لیے حقیقی فوائد کا باعث بن سکتی ہے۔

اس حوالے سے سائنسی شواہد بھی خاصے مضبوط ہیں۔ کھانے کے بعد چہل قدمی کے دوران گلوکوز کام کرنے والے پٹھوں کے خلیوں میں زیادہ مقدار میں منتقل ہوتا ہے، جس سے خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے اور طویل مدت میں ذیابیطس کے خطرے سے تحفظ مل سکتا ہے۔

اس کے علاوہ یہ پیٹ پھولنے کی شکایت کم کر سکتی ہے، دوپہر کے کھانے کے بعد آنے والی معمول کی سستی کو دور کرنے میں مدد دے سکتی ہے اور وزن کم کرنے کی کوششوں میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

آپ کو زیادہ دیر تک چلنے کی بھی ضرورت نہیں۔ اس موضوع پر ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانے کے بعد صرف 10 سے 15 منٹ کی تیز چہل قدمی بھی یہ اہم فوائد فراہم کر سکتی ہے، یعنی تھوڑی سی محنت کے بدلے خاصا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔

ورزش کے معمول میں تبدیلی لانے کے ارادے سے میں نے خود اس مشورے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا اور کھانے کے بعد چلنے کی عادت کو آزمایا۔ نتائج خاصے حیران کن تھے۔

کھانے کے بعد چہل قدمی کے کئی فوائد

سب سے پہلے مجھے ڈاکٹر ایلروئے آگویار نے’کھانے کے بعد حرکت‘ کے تصور سے متعارف کروایا۔ وہ یونیورسٹی آف الاباما میں ایکسرسائز سائنس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور چہل قدمی کے شعبے میں مہارت رکھتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ورزش کے فوراً بعد آپ کا بلڈ پریشر اور خون میں گلوکوز کی سطح کم ہو جاتی ہے۔ اس طرح خون میں موجود اضافی گلوکوز سے نمٹنے کے لیے آپ کے لبلبے کو کم کام کرنا پڑتا ہے۔

’یہ اثر کئی سالوں اور دہائیوں تک برقرار رہ کر میٹابولک سنڈروم، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر سے بچاؤ میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ تمام مسائل طویل عرصے میں بتدریج پیدا ہوتے ہیں، لیکن اگر آپ ورزش کریں تو ان کے سنگین مسئلہ بننے سے پہلے ہی ان کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔‘

اس منطق کے مطابق کسی بھی قسم کی جسمانی سرگرمی مفید ہو سکتی ہے، چاہے وہ جسمانی وزن کے ساتھ چند سکواٹس ہوں یا ’سولیئس پش اپ‘ جیسی معمولی ورزش، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ توقع سے کہیں زیادہ صحت کے فوائد فراہم کرتی ہے۔

جرنل ’ڈائبیٹیز کیئر‘ میں شائع ہونے والی تحقیق بھی اس بات کی تائید کرتی ہے، جبکہ ’انٹرنیشنل جرنل آف جنرل میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی ایک چھوٹی تحقیق سے معلوم ہوا کہ کھانے کے بعد جسمانی سرگرمی کا ایک اور فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔

 چنانچہ میں نے چند ہفتوں کے لیے اپنا معمول تبدیل کیا اور دوپہر کے کھانے کے بعد اضافی چہل قدمی شروع کی تاکہ دیکھا جا سکے کہ اس کا کوئی اثر ہوتا ہے یا نہیں۔

ابتدائی چند دن خاصے مشکل تھے، خاص طور پر شام کے وقت۔ میں عموماً رات کے کھانے کو مصروف دن کے اختتام اور سونے سے پہلے آرام کرنے کے آغاز کے طور پر دیکھتا ہوں۔ کھانا کھانے کے فوراً بعد دوبارہ گھر سے باہر نکلنا مجھے غیر فطری اور مشکل محسوس ہوتا تھا۔

 تحقیق کے مطابق دن کے دوسرے اوقات میں کی جانے والی اسی نوعیت کی چہل قدمی کے مقابلے میں کھانے کے بعد چلنا وزن کم کرنے کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوا۔

ان تحقیقات سے واقف ہونے کے بعد مجھے مزید کئی ماہرین ملے جو کھانے کے بعد چہل قدمی کے فوائد کی حمایت کرتے ہیں۔

جب میں نے ماہر امراض قلب سے پوچھا کہ دل کی بیماری کے خطرے کو کم کرنے کے لیے وہ روزانہ کی کون سی عادات اپناتے ہیں تو ان میں سے بڑی تعداد نے بتایا کہ وہ ہر بڑے کھانے کے بعد چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر فرانسسکو لو موناکو نے مجھے بتایا: ’اس سے آپ کے پٹھوں کو گلوکوز زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں مدد ملتی ہے، کھانے کے بعد خون میں شوگر کی سطح میں اچانک اضافے کو کم کیا جا سکتا ہے اور وقت کے ساتھ انسولین کے لیے جسم کی حساسیت بہتر ہو سکتی ہے۔ یہ معمولی میٹابولک بہتریاں روزانہ کی بنیاد پر خون کی شریانوں اور دل پر پڑنے والا دباؤ کم کرتی ہیں۔‘

جب میں نے اپنے پسندیدہ ٹرینرز سے بھی وہ مستقل عادات شیئر کرنے کو کہا جو انہیں بہترین جسمانی حالت میں رکھتی ہیں تو مجھے اسی طرح کے کئی جوابات موصول ہوئے۔

اوپر بیان کیے گئے فوائد کے علاوہ، پرسنل ٹرینر اور ویل ٹو لیڈ کے بانی اولی تھامپسن کے مطابق، کھانے کے بعد چلنے سے ’پیٹ پھولنے کے امکانات کم ہو سکتے ہیں، بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور خاص طور پر رات کے کھانے کے بعد نیند کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’اس کے علاوہ اس سے میرے روزانہ کے قدموں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے، جس کے ساتھ جسمانی اور ذہنی صحت کے بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔‘

ایک ماہ تک ہر کھانے کے بعد چلنے سے میرے ساتھ کیا ہوا؟

ہر شخص مختلف ہوتا ہے اور ہر ایک کا جسم بھی مختلف انداز میں ردِعمل ظاہر کرتا ہے۔ جو چیز ایک شخص کے لیے مؤثر ہو، ضروری نہیں کہ دوسرے کے لیے بھی اتنی ہی کارآمد ہو، چاہے اس کے حق میں کتنی ہی تحقیق کیوں نہ موجود ہو۔ لیکن کھانے کے بعد چہل قدمی کے اثرات نے مجھے متاثر کیا۔

وضاحت کے لیے، میں ایک فعال 30 سالہ شخص ہوں جو روزانہ کافی چلتا ہے، جس کی ایک وجہ میرے پاس موجود توانا کتا بھی ہے۔ لیکن میری یہ چہل قدمی عموماً کام سے پہلے یا کام کے بعد ہوتی تھی اور بڑے کھانے سے پہلے ہوتی تھی، بعد میں نہیں۔

میرے خاندان کے افراد کا ردِعمل بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ جب میں نے انہیں کھانے کے بعد چہل قدمی کے ممکنہ فوائد کے بارے میں بتایا تو انہوں نے بھی اسے آزمانے کا فیصلہ کیا، لیکن چند ہفتوں بعد انہوں نے بتایا کہ انہوں نے’اسے چھوڑ دیا‘ کیونکہ یہ ان کے روزمرہ معمولات کے ساتھ بہت زیادہ مشکل پیدا کر رہا تھا۔

اگر میں نے اس تجربے کے لیے خود کو پابند نہ کیا ہوتا تو شاید میرا انجام بھی ایسا ہی ہوتا، لیکن میں نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔

کھانے کے بعد چہل قدمی کو روزانہ کی عادت بنانے میں شاید سب سے بڑا مسئلہ یہی عملی دشواری ہے۔ اگرچہ اس کے لیے ایک وقت میں صرف 10 منٹ درکار ہوتے ہیں، لیکن مصروف زندگی میں ان 10 منٹوں کو نکالنا بھی مشکل ہو سکتا ہے، تاہم میں نے محسوس کیا کہ اس کے بدلے ملنے والا فائدہ خاصا نمایاں تھا۔

کھانے کے بعد چہل قدمی: حتمی نتیجہ

زیادہ تر فٹنس سرگرمیوں کے برعکس، جن کے فوائد محسوس کرنے کے لیے کئی ہفتے یا حتیٰ کہ کئی ماہ انتظار کرنا پڑتا ہے، کھانے کے بعد چہل قدمی کے اثرات مجھے فوری طور پر محسوس ہوئے۔

دوپہر کے کھانے کے بعد چہل قدمی سے میری توانائی زیادہ متوازن رہی، جس کے نتیجے میں دوپہر کے وقت میں زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکا۔ مجھے پیٹ پھولنے اور معدے سے متعلق دیگر تکالیف بھی کم محسوس ہوئیں۔ ڈیسک سے کچھ دیر دور ہونے کا اضافی موقع ملنے سے میرا موڈ بھی بہتر رہا اور روزانہ میرے قدموں کی تعداد میں بھی خاصا اضافہ ہوا۔

میرے پاس لیبارٹری موجود نہیں تھی، اس لیے میں یہ نہیں بتا سکتا کہ اس عادت نے میرے خون میں شوگر یا صحت سے متعلق دیگر اندرونی اشاریوں پر کیا اثر ڈالا۔

 لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ کھانے کے بعد چلنے سے میں خود کو بہتر محسوس کرتا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 تاہم، یہ عادت ہمیشہ میرے روزمرہ معمول کے ساتھ آسانی سے مطابقت نہیں رکھتی تھی اور میں زندگی بھر ہر کھانے کے بعد چہل قدمی کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

جدید فٹنس مشورے اکثر صحت کے معاملے میں ’سب کچھ یا کچھ بھی نہیں‘ والا رویہ اختیار کرتے ہیں، لیکن میں یہ مشورہ نہیں دے رہا کہ شادیوں، جنازوں یا خاندانی ضیافتوں کے دوران آخری لقمہ نگلتے ہی میز سے اٹھیں اور تیز رفتاری سے چلنے نکل جائیں۔

اس کے بجائے، کھانے کے بعد جسمانی حرکت کو اپنی فٹنس کی حکمتِ عملی میں شامل ایک مفید عادت سمجھیں۔ جب یہ عملی اور خوشگوار ہو تو اسے اپنائیں اور کھانے کے بعد پہلے کی نسبت زیادہ مرتبہ اپنے جسم کو حرکت دینے کی شعوری کوشش کریں۔

مثال کے طور پر، میں نے محسوس کیا کہ دوپہر کے کھانے کے بعد کچھ دیر کے لیے اپنی میز سے دور چلے جانا میرے لیے بہت مفید تھا۔ اس کے بعد میں دوپہر کے وقت خود کو کہیں زیادہ تازہ دم محسوس کرتا تھا، بجائے اس کے کہ اپنی نشست پر بیٹھا رہتا اور فون پر سکرول کرتا رہتا۔

تو کیا آپ کو کھانے کے بعد جسم کو حرکت دینی چاہیے؟ میرا جواب ہے: ہاں، جب بھی آپ کے لیے ممکن ہو۔

کیونکہ ایک مؤثر فٹنس مشورہ ایسا ہونا چاہیے جو آپ کو بہتر محسوس کروائے، نہ کہ آپ کی زندگی میں غیر ضروری دباؤ کا اضافہ کرے۔

کھانے کے بعد صرف 10 سے 15 منٹ کی تیز چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے، پیٹ پھولنے اور کھانے کے بعد ہونے والی سستی کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
ہفتہ, ستمبر 5, 2026 - 12:00
Main image: 

<p>تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پیدل چلنے سے زندگی میں کئی برس کا اضافہ ہو جاتا ہے (اینواتو)</p>

type: 
SEO Title: 
ایک ماہ تک ہر کھانے کے بعد 15 منٹ چہل قدمی کے حیرت انگیز اثرات
origin url: 
https://www.independent.co.uk/health-and-fitness/i-walked-for-15-minutes-after-every-meal-for-a-month-the-effects-were-immediate-b3039817.html
Translator name: 
Alaas
Read Entire Article
Chatroom