ایرانی بحری جہاز پر ’امریکی حملہ‘، کم از کم 87 اموات: سری لنکن حکام

6 months ago 39

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا دائرہ اس وقت وسیع ہو گیا جب بدھ کو پینٹاگون نے بتایا کہ امریکی آبدوز نے سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جنگی بحری جہاز کو نشانہ بنا کر غرق کر دیا ہے۔

وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بدھ کو اعلان کیا کہ ’امریکی آبدوز نے بحیرہ ہند میں ’کوایٹ ڈیتھ‘ نامی حملے میں ایرانی جنگی بحری جہاز کو غرق کر دیا ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ’یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی دشمن جہاز کو ٹارپیڈو سے ڈبویا ہو۔‘

ہیگسیتھ نے کہا کہ ’بالکل اسی جنگ کی طرح، ہم جیتنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘

تاہم ایران کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

سری لنکن حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کم از کم 87 افراد مارے گئے جب کہ درجنوں لاپتہ ہیں۔

سری لنکن پولیس اور دفاعی حکام نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’87 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں لیکن 61 دیگر افراد تاحال لاپتہ ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سری لنکن نیوی کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ’بحری جہاز کی جانب سے الاصبح کال موصول ہوئی تھی تاہم ریسکیو کشتیوں کے پہنچنے تک جہاز ایک گھنٹے کے اندر اندر پوری طرح ڈوب چکا تھا۔‘

امریکہ اور اسرائیل کے ہفتے کو ایران پر حملے اور آیت اللہ علی آمنہ ای کی موت کے بعد سے مشرق وسطیٰ کے حالات کشیدہ ہیں جہاں ایک طرف ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ دوسری جانب سے نے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث جہاز رانی پانچویں روز بھی مفلوج ہے اور مشرقِ وسطیٰ سے تیل اور گیس کی اہم ترسیل متاثر ہو چکی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی آبدوز کی جانب سے ایرانی بحری جہاز پر حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے تیل اور گیس برآمد کرنے والے جہازوں کو انشورنس اور بحریہ کی سکیورٹی فراہم کریں گے۔

Read Entire Article
Chatroom