Want Your Business Featured Here?
Get instant exposure to our readers
Chat on WhatsApp
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کی بحریہ، فضائیہ، دفاعی نظام، قیادت اور فوجی صنعتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کی صلاحیتوں کو بھی مفلوج کردیا گیا ہے۔
ہیگسیتھ نے یہ بات ورجینیا کے میرین کور بیس کوانٹیکو میں امریکی فوجی اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں نے ایران کی روایتی دفاعی صلاحیت کو شدید متاثر کیا اور اس کے جوہری عزائم کو بھی محدود کردیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع کے مطابق ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاع، کمانڈ ڈھانچے اور فوجی صنعتی صلاحیتوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے امریکی فوجیوں کو ان کارروائیوں کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا بھی ہے۔
ہیگسیتھ کے دعووں کے مطابق امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی دفاعی صنعت اور فوجی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی مکمل آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں، جبکہ ماضی میں امریکی حکام کے ایران کی فوجی صلاحیتوں سے متعلق بعض دعووں پر بھی اختلاف سامنے آچکا ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے اپنی تقریر میں پینٹاگون کی اندرونی تنظیم نو کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ دفاع اب جنگ لڑنے کی صلاحیت، تیاری، نظم و ضبط اور فوجی طاقت پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ اسی خطاب میں انہوں نے خودکار اور روبوٹک جنگی صلاحیتوں کے لیے ایک نئی کمانڈ کے قیام کا اعلان بھی کیا۔
ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ امریکی فوج میں جنرلز اور ایڈمرلز کی تعداد میں مجموعی طور پر 20 فیصد کمی کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام فوجی قیادت کو زیادہ مؤثر بنانے اور احتساب بڑھانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس منصوبے میں بعض عہدوں کو ختم یا کم درجے کے عہدوں میں تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پینٹاگون میں ہونے والی تبدیلیاں ماضی کے طریقہ کار سے مختلف ہیں اور محکمہ دفاع کو مستقبل کی جنگی ضروریات کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈرونز، خودکار ہتھیاروں اور مستقبل کی جنگی ٹیکنالوجی پر بھی توجہ بڑھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔