ایران جوہری معاہدہ نہیں کرتا تو اگلا حملہ زیادہ شدید ہو گا: ٹرمپ

7 months ago 56

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایک مرتبہ پھر ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق مذاکرات کے لیے میز پر آئے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں امریکہ کا اگلا حملہ کہیں زیادہ شدید ہوگا۔

سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’امید ہے کہ ایران جلد از جلد مذاکرات کے لیے آمادہ ہوگا اور ایک منصفانہ اور متوازن معاہدہ طے پائے گا جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔‘

امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور صورت حال انتہائی نازک ہے۔‘

اپنے پہلے دورِ صدارت میں 2015 کے کثیر ملکی جوہری معاہدے سے امریکہ کو نکالنے والے صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایران کو دی گئی آخری وارننگ کے بعد ایک فوجی حملہ کیا گیا تھا۔

’آئندہ حملہ اس سے کہیں زیادہ شدید ہوگا اور یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک اور امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے۔‘

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں ان کا امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی انہوں نے مذاکرات کی کوئی درخواست کی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں ایک امریکی بحری سٹرائک گروپ، جس کی قیادت ایک ایئرکرافٹ کیریئر کر رہا ہے، کی موجودگی کے درمیان، اعلیٰ ایرانی حکام نے بھی پس پردہ سفارت کاری میں اہم عرب ریاستوں سے رابطہ کیا تاکہ حمایت حاصل کی جا سکے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ’فوجی دھمکیوں کے ذریعے سفارت کاری مؤثر یا سودمند ثابت نہیں ہو سکتی۔‘

ٹیلی وژن پر دیے گئے بیان میں انہوں نے کہا ’اگر وہ چاہتے ہیں کہ مذاکرات کی کوئی شکل بنے تو انہیں یقینی طور پر دھمکیاں دینا، غیر ضروری مطالبات کرنا اور غیر منطقی نکات اٹھانا چھوڑنا ہوں گے۔‘

ممکنہ امریکی حملے کے حوالے سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے منگل کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے فون پر گفتگو میں کہا تھا کہ مملکت اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، ولی عہد نے صدر پزشکیان کو بتایا تھا کہ سعودی عرب ایران کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو مکالمے کے ذریعے تنازعات کے حل کا باعث بنیں اور خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ دیں۔

Read Entire Article
Chatroom