ایران جنگ کا افغانستان کی معیشت پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

6 months ago 24

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

اسرائیل اور ایران کے درمیان گذشتہ کئی روز سے حالات کشیدہ ہیں اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر فضائی حملے جاری ہیں جبکہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس کشیدگی سے ایک طرف ماہرین کے مطابق اگر خلیجی ممالک کی معیشت متاثر ہو گی تو دوسری طرف پہلے سے معاشی مشکلات سے دوچار افغانستان بھی متاثر ہو گا۔

ڈاکٹر ناصر اقبال ماہر معاشیات اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس میں پروفیسر ہیں، جن کا کہنا ہے کہ اس تنازعے سے افغانستان سمیت پورا خطہ متاثر ہو گا۔

انہوں نے بتایا کہ خطے میں اس تنازعے سے افغانستان، وسطی ایشیا، پاکستان اور انڈیا بھی متاثر ہو گا کیونکہ یہ ایک قسم کا بلاکیج بن گیا ہے، جس کا سب سے بڑا اثر افغانستان پر ہو گا۔

ڈاکٹر ناصر اقبال کا کہنا تھا کہ ’ایک طرف افغانستان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں تو دوسری طرف اب ایران کا تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ اس سے افغانستان میں مہنگائی بڑھے گی اور معیشت بری طرح متاثر ہوگی۔‘

گذشتہ سال ایران اور اسرائیل کے مابین کشیدہ حالات کے باعث، عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان کی درآمدات میں 20 فیصد کمی واقع ہوئی تھی۔

AFGHAN POMENGRENATE.jpg

انار بیچنے والا ایک افغان ریڑھی بان 23 اکتوبر 2025 کو کابل میں ایک سڑک کنارے ریڑھی لگائے ہوئے ہے (وکیل کوہسار/ اے ایف پی)

اسی طرح گذشتہ سال ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدہ حالات کی وجہ سے برآمدات میں بھی 23 فیصد کمی آئی کیونکہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی راستے بند ہو گئے تھے۔

افغانستان اور ایران کے درمیان زمینی تجارتی راستہ کابل کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس کی وجہ افغانستان کی جانب سے ایران کی درآمدات پر انحصار ہے۔

محمد یوسف فارن پالیسی کے ماہر اور آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں بحر ہند اور جنوبی ایشیا میں مختلف ممالک کی جانب سے طاقت کے مقابلے کے حوالے سے تحقیق کر رہے ہیں۔

TORKHUM BORDER.jpg

21 اکتوبر 2025 کو صوبہ ننگرہار میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان بند طورخم بارڈر کراسنگ کے قریب سامان بردار ٹرک رکے کھڑے ہیں (اے ایف پی)

یوسف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ افغانستان کی ضروری اشیا کا زیادہ تر انحصار ایران پر ہے اور اب ایران میں جنگ کی کیفیت ہے تو اس کا اثر افغانستان پر آئے گا۔

انہوں نے بتایا کہ ’کشیدگی کے دوران تمام معاملات نارمل فلو میں نہیں چلتے، سرحد اگر کھلی بھی ہے لیکن اس کا اثر افغانستان پر پڑے گا۔‘

محمد یوسف نے بتایا کہ ’افغانستان وسطی ایشیا ممالک کو بھی دیکھتا ہے لیکن وہ راستہ طویل ہے۔ ایران، انڈیا اور پاکستان ان کے لیے آسان ہے لیکن جب یہاں کشیدگی ہو تو افغانستان میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔‘

دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے ان افواہوں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے افغانستان کو اشیا کی برآمد بند کر دی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا: ’تمام ہم وطنوں کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ خواف-ہرات ریلوے کے ذریعے تجارتی سامان کی ترسیل معمول کے مطابق جاری ہے اور کسی قسم کی تاخیر نہیں ہو رہی۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ 42 ویگن سیمنٹ اور دو ویگن ایم ڈی ایف بورڈز پر مشتمل ایک ٹرین ہرات کے روزنک سٹیشن پر پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ خوراک اور ایندھن سے لدی ایک اور ٹرین رات کے دوران روزنک سٹیشن پہنچنے کی متوقع ہے۔

افغان ترجمان نے مقامی تاجروں سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ تجارتی اشیا کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کرنے سے گریز کریں اور منڈی میں استحکام کو یقینی بنائیں۔

خیال ہے کہ ایران افغانستان کا سب سے بڑا درآمدی پارٹنر ہے اور ورلڈ بینک کے مطابق کابل کی 29 فیصد درآمدات ایران سے آتی ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات اور پھر پاکستان کا نمبر آتا ہے۔

ورلڈ بینک کی 2025 کے شش ماہی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی 41 فیصد مصنوعات پاکستان کو سپلائی کی گئی تھیں، جو کسی بھی ملک کو افغانستان کی برآمدات کا سب سے بڑا حصہ ہے اور یہ سپلائی بھی گذشتہ چار مہینوں سے معطل ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی گزر گاہیں بشمول طورخم، چمن، خرلاچی اور غلام خان گذشتہ چار مہینوں سے بند ہیں اور افغان طالبان حکومت نے افغان تاجروں کو پاکستان کے ساتھ تجارت ختم کرنے کا بھی کہہ رکھا ہے۔

CHABAHAR PORT.jpg

25 فروری 2019 کو خلیج عمان کے جنوب مشرقی ایرانی ساحلی شہر چابہار میں شاہد بہشتی بندرگاہ پر نئے سازوسامان اور بنیادی ڈھانچے کی افتتاحی تقریب کے دوران سیکورٹی اہلکار کھڑے ہیں (اے ایف پی)

اس کے بعد افغانستان متبادل راستوں کی تلاش میں ہے اور اس میں سب سے اہم ایران کی چابہار بندرگاہ ہے جہاں سے انڈین سامان افغانستان کی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

چابہار بندرگاہ پر افغانستان اور انڈیا کے درمیان ایک معاہدہ بھی موجود ہے، جس کے تحت افغانستان کو بعض اشیا پر ٹیکس سے چھوٹ بھی حاصل ہے۔

روزانہ کی بنیاد پر ایران سے براستہ زمینی راستے تقریباً ایک ہزار کنٹینرز گزرتے ہیں۔ ورلڈ بینک کے مطابق ایران اور افغانستان کی سالانہ تجارت کا حجم تقریباً تین ارب ڈالر ہے۔

ایران اور اسرائیل تنازع کتنے دن یا ہفتوں تک چلتا ہے، یہ تو بعد میں پتہ چلے گا لیکن ماہرین کے مطابق اس تنازعے سے صرف خلیج نہیں بلکہ پورا خطہ معاشی طور پر متاثر ہو گا۔

Read Entire Article
Chatroom