پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے بدھ کو مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے کے لیے معاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے، جس کے تحت تہران نے بڑے پیمانے پر معاشی ریلیف کے بدلے اپنے افزودہ یورینیم کی سطح کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
امریکی صدر نے فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقعے پر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے جبکہ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کی جاری کردہ تصویر میں صدر مسعود پزشکیان کو مفاہمت کی یادداشت کی دستخط شدہ دستاویز تھامے ہوئے دکھایا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا: ’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ آج امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘ پر الیکٹرانک طور پر دستخط ہو گئے ہیں۔
’اس یادداشت پر دونوں ممالک کے معزز صدور نے دستخط کیے ہیں اور ایک ثالث کے طور پر میں نے بھی اس کی توثیق کی ہے۔ متعلقہ حکومتوں کی اعلیٰ ترین سطح پر اس معاہدے پر دستخط تنازعے کے سفارتی حل کے لیے دونوں فریقین کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔‘
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور پہلے قدم کے طور پر ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا اورامریکہ فوری طور پر بحری محاصرہ ختم کر دے گا۔‘
I am honoured to announce that the historic ‘Islamabad Memorandum of Understanding’ has been electronically signed today between the United States of America and the Islamic Republic of Iran. The Memorandum has been signed by honourable Presidents of both the countries and also…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 18, 2026شہباز شریف نے مزید کہا کہ وہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دلی مبارکباد اور مخلصانہ تحسین پیش کرتے ہیں جن کی سفارت کاری سے غیر متزلزل وابستگی اور پرامن حل کی ترجیح نے ایک بار پھر ایک ایسے تنازع کو ختم کرنے میں مدد کی ہے جس کے خطے اور اس سے باہر تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ امن کے مقصد کو اپنانے پر ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکیان کی دانشمندی، دور اندیشی اور تدبر کے لیے انہیں اپنا گہرا احترام اور تحسین پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ’میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کا بھی اعتراف کرنا چاہتا ہوں جن میں محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومنی شامل ہیں، جن کے صبر، استقامت اور تعمیری بات چیت سے وابستگی نے اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ خاص طور پر اس مقام تک پہنچنے میں مدد کرنے پر ریاست قطر کی قیادت کی مخلصانہ کوششوں اور تعمیری کردار کا اعتراف کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس سلسلے میں سعودی عرب، ترکی اور مصر کی قیادت کو بھی ان کے ناگزیر کردار اور گراں قدر خدمات کو سراہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بھی خصوصی ذکر کرنا چاہیں گے جن کی انتھک کوششیں، بے لوث لگن اور کلیدی کردار اس اہم پیش رفت کو ممکن بنانے اور امن اور علاقائی استحکام کے مقصد کو آگے بڑھانے میں انتہائی اہم رہے۔
انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان، قطر کے تعاون سے، جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں ایک تقریب کی میزبانی کرے گا تاکہ ’اس تاریخی واقعے کی یاد منائی جا سکے اور تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔‘
اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ کے ایک معاون کی جانب سے پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ نے جی سیون سربراہی اجلاس کے بعد پیلس آف ورسائی میں کینڈل لائٹ ڈنر کے دوران مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے، جب کہ میزبان فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور دیگر مہمانوں نے تالیاں بجائیں۔
محل سے باہر آتے ہوئے ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا، ’ابھی اس پر دستخط کیے ہیں۔‘
دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ دستاویز ’صدور کے دستخطوں سے حتمی شکل پا گئی ہے۔‘
<p>بائیں جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 17 جون 2026 کو فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقعے پر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرتے ہوئے جبکہ دائیں جانب ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کی جاری کردہ تصویر میں صدر مسعود پزشکیان کو مفاہمت کی یادداشت کی دستخط شدہ دستاویز تھامے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)</p>
.png)
9 hours ago
1


English (US) ·