اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: پاکستان

1 month ago 13

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں

پاکستان نے انڈیا کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ آبی حقوق کی مساوات کو منسوخ کر دے گا۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

بنیادی حق: پانی کی تقسیم

پانی کی تقسیم کا مسئلہ ایک قدیم مسئلہ ہے، جس میں دنیا کے بہت سے ممالک حصہ لیتے ہیں۔ سندھ طاس معاہدہ 1960ء کی دہائی میں اس معاملے کو حل کرنے کے لیے تھا، لیکن اب یہ ایک واضح مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے مابین بہت سے معاہدوں کے بعد بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک کے مطابق، پاکستان کی معیشت کا 20 سے 25 فیصد حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ زراعت کے لیے پانی کی تقسیم ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ یہ معیشت کے لیے بہت اہم ہے۔ اگر پاکستان کے پانی پر کوئی قدغن لگائی گئی تو اس کے اثرات معیشت، روزگار اور فوڈ سکیورٹی پر براہ راست مرتب ہوں گے۔

پاکستان کی پوزیشن

ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے موقف کا اعلان کر چکا ہے بلکہ گذشتہ ڈیڑھ سال میں دو مرتبہ عملی طور پر اپنے قومی مفادات کے دفاع کی صلاحیت بھی ثابت کر چکا ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان کا موقف واضح ہے کہ یہ اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے ان تمام ممالک کا ہے جو دریاؤں کے زیریں حصوں میں واقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کیا عالمی برادری یہ اصول تسلیم کرے گی کہ بالائی ممالک زیریں علاقوں کا پانی روک سکتے ہیں؟ اگر ایسا ہوا تو اربوں افراد کے بنیادی حقوق خطرے میں پڑ جائیں گے۔

مضامین کی رائے

ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان اس معاملے کو مختلف عالمی فورمز پر اٹھا چکا ہے اور اب تک اس موقف کا کوئی مؤثر جواب سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق، پاکستان نے حال ہی میں برسلز میں ایک ملاقات میں یہی موقف پیش کیا تھا۔

مضامین کی اہم باتوں

  • پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
  • سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پاکستان کے لیے معاشی، سماجی اور سیاسی اثرات کا باعث بن سکتی ہے۔
  • پاکستان نے حال ہی میں برسلز میں ایک ملاقات میں اپنے موقف کا اعلان کیا تھا۔
  • پاکستان نے اس معاملے کو مختلف عالمی فورمز پر اٹھا چکا ہے۔

اس لیے آپ کو کیا کرنا چاہئے

اس معاملے میں پاکستان کی پوزیشن واضح ہے، لیکن یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے مختلف پہلو ہیں۔ پاکستان کی معیشت کا 20 سے 25 فیصد حصہ زراعت سے وابستہ ہے، اور اگر پاکستان کے پانی پر کوئی قدغن لگائی گئی تو اس کے اثرات معیشت، روزگار اور فوڈ سکیورٹی پر براہ راست مرتب ہوں گے۔

یہ معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے ان تمام ممالک کا ہے جو دریاؤں کے زیریں حصوں میں واقع ہیں۔ کیا عالمی برادری یہ اصول تسلیم کرے گی کہ بالائی ممالک زیریں علاقوں کا پانی روک سکتے ہیں؟ اگر ایسا ہوا تو اربوں افراد کے بنیادی حقوق خطرے میں پڑ جائیں گے۔

اس لیے، یہ معاملہ پاکستان کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے، اور یہ ایک مسئلہ ہے جس کا حل پاکستان کی معیشت، سماج اور سیاست کے لیے بہت اہم ہے۔

Read Entire Article
Chatroom