انڈیا کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ’قانونی و سیاسی فرد جرم:‘ دفتر خارجہ

4 months ago 42

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے ’سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی‘ کا اقدام اس کے خلاف ’اہم قانونی اور سیاسی فرد جرم ہے‘ اور پاکستان اس ضمن میں تمام قانونی راستے استمعال کرے گا۔

جمعے کو ترجمان وزارت خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ یہ انڈیا کے ’خلاف ایک اہم قانونی اور سیاسی فرد جرم ہے، جو مستقبل میں اس کی عالمی حیثیت کو متاثر کر سکتا ہے۔

’پاکستان اس معاہدے، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے تحت دستیاب تمام قانونی راستے مکمل طور پر استعمال کرے گا۔‘

طاہر اندرابی بریفنگ کے بعد ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جبکہ ایسا اقدام کرنے والے ملک کو نہ صرف قانونی بلکہ ساکھ کے نقصان کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔ ہم پاکستان کے حصے کے ایک قطرہ پانی پر بھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت تنازعات کے حل کے لیے باقاعدہ طریقہ کار موجود ہیں جن میں سہولت کاری، ثالثی اور مصالحت شامل ہیں۔ جو بھی فریق اس عمل میں شریک ہوتا ہے، اس سے ایک خاص سطح کی ساکھ برقرار رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔

طاہر اندرابی نے کہا معاہدے میں کسی بھی فریق کے لیے علیحدگی اختیار کرنے کی کوئی شق موجود نہیں۔

ان کے مطابق ’جہاں تک معاہدے کا تعلق ہے، اس میں کوئی exit clause موجود نہیں۔‘

’کوئی ایسی شق نہیں جو کسی بھی فریق کے معاہدے سے الگ ہونے، اسے معطل رکھنے یا اس کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت دے۔ انڈیا جو کر رہا ہے، وہ نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاہدات کے وسیع تر قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ یہ ایک سنگین قانونی فرد جرم ہے۔‘

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا ’ثالثی کی عدالت، جس نے گزشتہ سال اگست میں اپنا بنیادی فیصلہ دیا تھا اور اس ہفتے ایک ضمنی فیصلہ جاری کیا، خود معاہدے کے فریم ورک کے تحت قائم کی گئی تھی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ثالثی کا عمل واضح طور پر معاہدے کے تنازع کے حل کے طریقہ کار میں شامل ہے۔ پاکستان نے معاہدے سے باہر جا کر ثالثی کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ معاہدے کے تحت دستیاب ایک آپشن استعمال کیا۔‘

طاہر اندرابی نے کہا انڈیا خود کو ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، دنیا میں بڑا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کا خواہاں ہے، ’لیکن دستخط شدہ معاہدوں کے حوالے سے اس کا طرز عمل سنگین سوالات اٹھاتا ہے کیونکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ انہیں اپنی مرضی سے violate کرنے کو تیار ہے۔‘

وزیراعظم شریف کا چین میں مشرق وسطی کے تنازع پر بات چیت کا امکان

طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ ’پاکستان اور چین نے مشرق وسطی کے تنازع کے حوالے سے قریبی رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔‘

انہوں نے کہا چین پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا وزیر اعظم شہباز شریف ’23 سے 25 مئی کے دوران اپنے دورہ چین میں صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات کریں گے، جس میں خطے کی صورت حال اور مشرق وسطی کا تنازع بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان امن کا عمل پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے پاکستان آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایران کے مبینہ دورے کے حوالے سے سوال پر کہا کہ وہ ’اس کی نہ ہی تصدیق کرتے ہیں اور نہ تردید کر سکتے ہیں۔‘

ترجمان نے کہا ’دونوں فریقین دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گے اور سیاسی، اقتصادی اور سٹریٹیجک شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کریں گے۔ وزیر اعظم کا دورہ چین کے شہر ہانگژو (صوبہ ژی جیانگ) سے شروع ہوگا، جہاں وہ پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کی صدارت کریں گے۔ اس دورہ میں آئی ٹی، ٹیلی کمیونیکیشن، توانائی ذخیرہ اور زراعت کے شعبے شامل ہوں گے۔‘

انہوں نے دورہ کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ بیجنگ میں وزیر اعظم چینی پیپلز ایسوسی ایشن فار فرینڈشپ ود فارن کنٹریز کی میزبانی میں منعقدہ استقبالیہ تقریب میں شرکت کریں گے، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی جا رہی ہے۔

Read Entire Article
Chatroom