تین دہائیوں سے زائد عرصے تک نئی دہلی کے بیچوں بیچ واقع وہ مقام جہاں انڈیا کے شہری اپنی آواز حکام تک پہنچانے، مطالبات کے حق میں ریلیاں نکالنے اور اقتدار میں موجود افراد کو جواب دہ بنانے کے لیے جمع ہوتے تھے، اب حکام نے بند کر دیا ہے۔
تجارتی مرکز اور سیاسی اقتدار کے ایوانوں کے قریب واقع دارالحکومت کی 18ویں صدی کی مشہور جنتر منتر رصدگاہ کے ساتھ مزدور یونینیں، ریٹائرڈ فوجی، بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والے افراد، خواتین کے حقوق کی تنظیمیں اور طلبہ کارکن احتجاج کرتے رہے ہیں۔
تاہم اس ہفتے عوامی اختلاف رائے کے اظہار کے لیے مشہور ملک کے اس سب سے معروف مقام کو باضابطہ طور پر احتجاج کے مقام کی حیثیت سے محروم کر دیا گیا، جس سے عوام میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
دہلی پولیس نے پیر کو جاری کیے گئے ایک حکم نامے میں کہا کہ ’جنتر منتر کو احتجاج کے مقام کی حیثیت سے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے۔‘ تاہم پولیس نے اس اقدام کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ اقدام حکام اور نوجوانوں کی آن لائن تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں حکومت مخالف مظاہرین کے درمیان تصادم کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔
اس تنظیم نے انتخابی فہرستوں پر نظرثانی اور ملک کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کے مطالبے کے لیے احتجاج کا اعلان کر رکھا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نظرثانی کے نتیجے میں اہل ووٹرز اپنے حق رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔
اس سے چند ماہ قبل امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کے الگ احتجاجی مظاہروں کے باعث وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
حکام نے دہلی میں مظاہروں کے لیے 3 متبادل مقامات مختص کیے ہیں، تاہم مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں احتجاج کے حق کے لیے مقام کی نمایاں حیثیت اور قانون سازوں کے قریب ہونا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
انسانی حقوق کی کارکن شبنم ہاشمی نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا: ’جنتر منتر شہر کے مرکز میں ہے، اس تک رسائی آسان ہے اور یہ پارلیمان کے ساتھ واقع ہے۔ یہ تمام احتجاجی مظاہروں کے لیے ایک انتہائی اہم مقام تھا۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’یہ اختلاف رائے کو دبانے کے سوا کچھ نہیں۔‘
مزاحمت کا جذبہ
’جنتر منتر‘ کا مطلب سنسکرت میں فلکیاتی حساب کتاب کا آلہ ہے۔ اسے کھلی آنکھ سے اجرام فلکی کی پوزیشن کا مشاہدہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
جنتر منتر کے ساتھ واقع تقریباً 1.6 کلومیٹر طویل سڑک 1993 میں احتجاجی مقام قرار دیے جانے کے بعد مظاہروں کی علامت بن گئی۔
جولائی میں کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں ہزاروں طلبہ وہاں جمع ہوئے اور میڈیکل انٹری ٹیسٹ امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف پارلیمان کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔
تقریباً ایک ماہ تک جنتر منتر نئی نسل، خصوصاً جین زی کے اختلاف رائے کے اظہار کا ایک اہم مرکز بن گیا، جہاں دیواریں حکومت کو چیلنج کرنے والے غصے بھرے نعروں، مزاحمتی پیغامات اور تحریروں سے سج گئیں۔
رواں ماہ اس وقت دوبارہ کشیدگی پیدا ہوئی جب پولیس نے متنازع انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کے مطالبے کے لیے کاکروچ جنتا پارٹی کو اس مقام پر احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
منگل کو، اس مقام کی حیثیت باضابطہ طور پر ختم کیے جانے کے ایک روز بعد، پولیس نے کاکروچ جنتا پارٹی کے ان رہنماؤں کو حراست میں لے لیا جنہوں نے ’جنتر منتر کو دوبارہ حاصل کرنے‘ کے لیے رکاوٹیں عبور کی تھیں۔
تنظیم کے بانی ابھیجیت دپکے نے کہا: ’جنتر منتر محض ایک مقام نہیں بلکہ مزاحمت کا ایک جذبہ ہے جسے کوئی کبھی ہم سے نہیں چھین سکتا۔‘
حکومت کے اس اقدام نے دوبارہ یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ شہری اب اپنی شکایات کے اظہار کے لیے کہاں جمع ہو سکتے ہیں۔
کارکن شبنم ہاشمی نے کہا کہ حالیہ برسوں میں جنتر منتر پر احتجاج پہلے ہی جگہ اور اوقات کی پابندیوں کے باعث بتدریج محدود ہوتا جا رہا تھا۔
تاہم ان کے بقول، اس مقام کی جغرافیائی حیثیت اسے منفرد طور پر مؤثر بناتی تھی کیونکہ مظاہرین آسانی سے پارلیمان، سرکاری وزارتوں اور ذرائع ابلاغ کے اداروں تک پہنچ سکتے تھے۔
انہوں نے کہا: ’جمہوریت میں آپ کو ایسے مقامات کی ضرورت ہوتی ہے جہاں آپ احتجاج کر سکیں۔‘
پڑوسیوں کی شکایات
حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت نئی دہلی کے مضافات میں دو مقامات پر مظاہرے کیے جا سکتے ہیں، جبکہ شہر کے مرکز کے قریب واقع تیسرا مقام رام لیلا میدان بڑے اجتماعات کے لیے دستیاب رہے گا۔
تاہم کارکنوں کا مؤقف ہے کہ احتجاج کو شہر کے مرکز سے دور منتقل کرنے سے مظاہرین کی تعداد اور احتجاج کی نمایاں حیثیت کم ہو سکتی ہے، خصوصاً ان کارکنوں کے لیے جو دور دراز ریاستوں سے آتے ہیں۔
ان کے مطابق، سفر کے بڑھتے اخراجات، طویل سفر اور میڈیا کی کم توجہ مظاہروں کے اثرات کو محدود کر سکتی ہے۔
تاہم جنتر منتر کے علاقے میں رہنے والے بعض افراد نے پولیس کے اس حکم کا خیرمقدم کیا ہے۔
مقامی رہائشی ورون سیٹھ نے اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ کو بتایا: ’ہمارے گھروں کی طرف جانے والی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں، شور ہوتا ہے، کچرا پھیلتا ہے اور ہماری روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔‘
دہلی پولیس کی سابق کمشنر کرن بیدی نے بھی اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کا ’حساس‘ مقام ہونا اسے احتجاجی مظاہروں کے لیے ناموزوں بناتا ہے۔
انہوں نے سماجی رابطوں کے ذرائع پر کہا: ’ہر شہر میں جمہوری اظہار کے لیے ایک کھلی جگہ کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن (حکام) اسے فراہم کرنا بھول جاتے ہیں۔‘
منگل کو مظاہرے میں شامل ایک خاتون نے اے ایف پی کو بتایا کہ پولیس کے حکم کے باوجود مظاہرین جنتر منتر پر جمع ہوتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا: ’ہم پختہ عزم کے ساتھ سول نافرمانی کی تحریک چلائیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ہم یہاں بیٹھیں گے اور احتجاج کریں گے۔‘ اس کے بعد جب وہ جنتر منتر کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تو پولیس انہیں وہاں سے لے گئی۔
<p class="rteright"> سکیورٹی اہلکار 13 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی میں انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کے دوران ایک طالب علم کارکن کو حراست میں لے رہے ہیں۔ مظاہرین ملک کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں (ارون سنکر/اے ایف پی)</p>
.png)
1 hour ago
2




English (US) ·