امریکہ کی امیرترین کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اپنے سیٹلائٹ انٹرنیٹ نظام کو انڈیا میں خدمات کی فراہمی کی اجازت نہ ملنے پر ملک کے کھرب پتی صنعت کار مکیش امبانی کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔
ایلون مسک نے جمعے کو اپنی ایکس پوسٹ میں ریلائنس انڈسٹریز کے سربراہ مکیشن امبانی کو طنز کے طور پر ’وزیراعظم‘ کہہ کر مخاطب کیا اور کہا کہ ’براہ کرم میری عاجزانہ معذرت قبول کریں کہ مجھے اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ آپ انڈیا میں اصل باس ہیں۔‘
مارچ 2025 میں، انڈیا کے ارب پتی مکیش امبانی کے جیو پلیٹ فارمز نے کہا تھا کہ اس نے اپنے صارفین کو سٹارلنک کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کے لیے مسک کی سپیس ایکس کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ لیکن اس کا آغاز ہونا ابھی باقی ہے۔
بدھ (سات اکتوبر) کو ایلون مسک نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انڈیا میں کچھ صنعت کار سٹار لنک کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں تاکہ وہ انڈین عوام پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھ سکیں، تاہم انڈین حکام کا کہنا ہے کہ حکومتی ضوابط ’منصفانہ‘ ہیں۔
ایلون مسک نے اپنی ایکس پوسٹ میں مکیش امبانی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’ظاہر ہے آپ انڈیا کے عظیم عوام کا اپنا اجارہ دارانہ استحصال برقرار رکھنے کو ترجیح دیں گے، لیکن کیا اس کے باوجود آپ سٹارلنک کو مقابلہ کرنے کی اجازت دینے پر غور کریں گے؟‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’تمام ممالک کی طرح انڈیا کے بھی کئی ایسے علاقے ہیں جہاں انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے، جس سے بچے تعلیم کے مواقع اور چھوٹے کاروبار کو اپنی اشیا عالمی منڈی میں فروخت کرنے کے موقعے سے محروم رہتے ہیں۔ سٹارلنک ان کی زندگیوں کو بہتر بنا دے گا۔‘
سٹارلنک جو زمین کے قریبی مدار میں موجود سیٹلائٹس کے ذریعے دور دراز علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرتا ہے، انڈیا میں انتہائی کم قیمتیں مقرر کرنے سے لے کر سپیکٹرم کی تقسیم جیسے معاملات پر شدید بحث کا باعث بنا ہے۔
تاہم انڈیا کی وزارت مواصلات نے آٹھ اکتوبر کو ایک بیان میں کہا حکومت کے پاس ’تمام ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کے لیے ایک منصفانہ اور بلاامتیاز منظوری کا فریم ورک‘ موجود ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انڈین وزارت کے بیان میں ایلون مسک کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ صرف ایک ایسی پوسٹ کا حوالہ دیا گیا جو ’سیٹلائٹ کمیونیکیشن سروسز کے لیے انڈیا کے ریگولیٹری فریم ورک کے منصفانہ ہونے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔‘
کمپنیوں کے نام بتائے بغیر مزید کہا گیا کہ ’انڈیا میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن سروسز کی فراہمی ممکن بنانے کے حکومتی عزم کے تحت سیٹلائٹ سروسز کو ٹیلی کام لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔‘
مزید کہا گیا کہ اس عمل کے حصے کے طور پر فی الحال تینوں لائسنس یافتہ کمپنیوں کا سکیورٹی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ’جیسے ہی کسی لائسنس یافتہ ادارے کے لیے یہ عمل مکمل ہو گا، وہ اگلے مرحلے کی جانب بڑھ سکے گا۔‘
فی الحال مکیش امبانی کی طرف سے اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم انڈین ایکس صارفین نے ایلون مسک کے مکیشن امبانی پر طنز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’محترم صدر مسک، سٹارلنک کو چین اور روس میں اتنا آگے کیوں نہیں بڑھایا جاتا جتنا آپ اسے انڈیا میں لانے کے لیے بے تاب ہیں؟ کیا ایسا اس لیے ہے کیوں کہ آپ کا بے بی باس ناراض ہو جائے گا؟‘
ایک اور صارف نے کہا کہ ’سب سے خراب دلیل یہ ہے کہ سٹارلنک انڈیا میں غریبوں کی تعلیم میں مدد کرے گا۔ کوئی غریب آپ کے سٹارلنک کا خرچ برداشت نہیں کر سکے گا۔ امبانی نے کروڑوں لوگوں کو سستا انٹرنیٹ دیا۔ ایلون، رونا بند کریں۔ اب یہ شرمندگی کی بات بنتی جا رہی ہے۔‘
اسی طرح ایک اور صارف نے ایلون مسک کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ لہجہ درست نہیں ہے۔ یہ متکبرانہ ہے۔ آپ اس سے بہتر ہیں۔ انڈیا میں امریکی مفادات کے لیے بہترین سفارت کاری اور حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ انڈین عوام کی ترقی کے لیے انڈین کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے طریقے تلاش کیے جائیں۔ نہ کہ ان سے مقابلہ کیا جائے۔‘
<p class="rteright">امریکہ کی امیرترین کاروباری شخصیت ایلون مسک اور انڈیا کے کھرب پتی صنعت کار مکیش امبانی (فائل تصاویر/اے ایف پی)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·