امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے پیر کو امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے جزیرے قشم کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق یہ رپورٹ جزیرے پر ہونے والے متعدد دھماکوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ جزیرہ آبنائے ہرمز میں واقع ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ حملہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ کی جانب سے کیے جانے والے محدود حملوں کے سلسلے کی تازہ ترین کارروائی ہے۔
اخبار نے مزید بتایا کہ یہ حملے نسبتاً چھوٹے پیمانے پر کیے گئے اور انہیں جان بوجھ کر خفیہ رکھا گیا تاکہ ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کی بحالی کے کسی ارادے کا اشارہ نہ ملے۔
روئٹرز کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے فوری طور پر اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے رواں برس 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد سے تہران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کو بھی عملاً بند کر دیا تھا، جو دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آبنائے ہرمز کے جزیرے قشم پر حملوں کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے سے بچنے کے لیے معاہدہ ممکن ہے۔
ٹرمپ نے امریکہ میں اہم وسط مدتی انتخابات سے ایک روز قبل ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ ’ہو سکتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران جلد از جلد تصفیہ چاہتا ہے۔‘
نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے بھی اپنے علیحدہ بیان میں کہا تھا کہ وہ اور ٹرمپ دونوں ایران سے معاہدہ طے پانے کے حوالے سے پُرامید ہیں۔
جے ڈی وینس نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’ہم نے یقیناً کچھ پیش رفت کی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ کیا ہم مزید پیش رفت کر سکتے ہیں۔‘
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث تیزی سے بڑھنے والی تیل کی قیمتیں پیر کو ممکنہ طور پر آٹھ ماہ سے جاری تنازع ختم ہونے کی امید پر 7 فیصد سے زیادہ گر گئیں۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کا بھی حوالہ دیا۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو کہا کہ امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات ثالثوں کے ذریعے جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو ویڈیو انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا: ’موجودہ صورت حال کی حساسیت اور سنگینی کے پیش نظر مشاورت اور تبادلہ خیال انتہائی تیزی سے جاری ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’قطر اور پاکستان ان مذاکرات میں ثالثی کے لیے انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔‘
چین نے بھی مذاکرات کی بحالی پر زور دیا، جبکہ ایران کے سکیورٹی چیف نے روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ تنازعے پر تبادلہ خیال کیا۔
اس سے قبل خبر رساں ادارے ایکسیوس نے رپورٹ کیا تھا کہ جے ڈی وینس نے ایران کی قومی سلامتی کے سربراہ محسن رضایی کو ممکنہ نئے مذاکرات کے حوالے سے خط بھیجا ہے، جو کئی ماہ میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والی پیش رفت ہے۔
ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات ’ہماری فتح کا اعتراف‘ ہیں۔
تاہم ٹرمپ اس سے قبل ایران کو دھمکیاں دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کسی نہ کسی مرحلے پر ہمیں انہیں سخت جواب دینا پڑے گا۔‘
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کو دو دن کے اندر کھولنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ واشنگٹن اس کے مطالبات کی فہرست سے اتفاق کرے۔
ستمبر میں ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ تمام محاذوں پر جنگ ختم کرے، ایران کے منجمد اثاثے بحال کرے، تیل پر عائد پابندیاں اٹھائے اور ایرانی بندرگاہوں کی جوابی ناکہ بندی ختم کرے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا، ’دو دن میں اس منصوبے پر عمل درآمد کا امکان ایران کے نیک نیتی پر مبنی رویے کا ایک اور ثبوت ہے۔‘
اس سے قبل الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو اتوار کو نشر ہوا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ واشنگٹن کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والے نئے راستے کو تسلیم کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کو حال ہی میں عائد کی گئی پابندیاں بھی ختم کرنا ہوں گی اور خطے میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنا ہوگی۔
ہفتے کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں اب بھی ایک یا دو اہداف سے ’نمٹنا‘ ہے، جن میں وسطی ایران میں واقع کوہ پکیکس بھی شامل ہے، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہاں جوہری تنصیب موجود ہے، تاہم تہران اس مقام کو جوہری تنصیب قرار دینے کی تردید کرتا ہے۔
اسماعیل بقائی نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کا ’طاقتور، فوری اور جامع جواب دیا جائے گا۔‘
<p class="rteright">ایران کی خبر رساں ایجنسی اسنا کی جانب سے جاری کی گئی اس 13 اگست 2026 کی تصویر میں جزیرہ قشم کے جنوبی ساحل کے قریب سمندر میں تیل کی تہہ دیکھی جا سکتی ہے (اے ایف پی)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·