اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں افغانستان کے طالبان حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خواتین کے خلاف اپنی سخت پابندیوں کو فوری طور پر واپس لیں اور افغانستان کے اندر سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کریں، جن پر پاکستان سرحد پار حملوں کا الزام عائد کرتا ہے۔
چین کے اقوام متحدہ میں سفیر فو کونگ، جن کے ملک نے اس قرارداد کی سرپرستی کی، نے کہا کہ امید ہے افغان حکومت ’انسانی حقوق کے تحفظ، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے مزید عملی اقدامات کرے گی اور کھلے پن، شمولیت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گی۔‘
اس قرارداد کے تحت افغانستان میں اقوام متحدہ کے سیاسی مشن کی مدت 17 جون 2027 تک بڑھا دی گئی ہے اور اسے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ انسانی امداد کی فراہمی ’بلا امتیاز‘ جاری رکھے اور قومی و مقامی سطح پر ایسی حکمرانی کو فروغ دے جس میں جنس، مذہب یا نسل کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہ ہو اور خواتین، اقلیتوں، نوجوانوں اور معذور افراد کی مکمل، مساوی اور محفوظ شرکت یقینی بنائی جائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ قرارداد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں ماہ مغربی شہر ہرات میں کم از کم 30 خواتین کو طالبان کے سخت لباس کے ضابطے کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔ ان گرفتاریوں کے خلاف ایک غیر معمولی احتجاج ہوا جسے طالبان پولیس نے تشدد سے منتشر کر دیا، جس میں اقوام متحدہ کے مشن یوناما کے مطابق ایک شخص کی موت اور متعدد زخمی ہوئے۔
طالبان 2021 سے افغانستان پر حکومت کر رہے ہیں، جب امریکی قیادت میں افواج کے غیر منظم انخلا کے بعد وہ اقتدار میں آئے۔
انہوں نے اسلامی شریعت کی سخت تشریح نافذ کی ہے، جس میں خواتین اور بچیوں پر سخت پابندیاں شامل ہیں، جیسے پرائمری تعلیم کے بعد تعلیم پر پابندی اور کئی ملازمتوں سے محرومی۔ اقلیتیں بھی ان پابندیوں سے متاثر ہوئی ہیں۔
یہ قرارداد اقوام متحدہ کے مشن کو یہ اختیار بھی دیتی ہے کہ وہ طالبان، خطے کے ممالک اور عالمی برادری کے درمیان مذاکرات کو آسان بنائے۔
امریکہ کی نائب سفیر جینیفر لوکیٹا نے کہا کہ ’اس سیاسی عمل کی کامیابی کے لیے طالبان کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہیں دہشت گردی کے خلاف اپنے وعدے پورے کرنے، افغانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرنے، یرغمال بنا کر سفارت کاری ختم کرنے اور خواتین و بچیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے ہوں گی۔‘
پاکستان افغانستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ ایسے شدت پسندوں کو پناہ دیتا ہے جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں، تاہم طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔ فروری کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں میں سینکڑوں افراد جان سے جا چکے ہیں، جب افغانستان نے پاکستان کے فضائی حملوں کے جواب میں کارروائی کی۔
پاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ ’یہ قرارداد افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر سلامتی کونسل کی گہری تشویش ظاہر کرتی ہے، جو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘
نئی قرارداد یوناما کو افغانستان کی معاشی ترقی کو آگے بڑھانے کا بھی اختیار دیتی ہے، جس میں تجارتی و مالی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنا اور مرکزی بینک کے اثاثے افغان عوام کے فائدے کے لیے واپس لانے کی کوششوں کی حمایت شامل ہے۔
<p class="rteright">11 جون 2026 کو افغان صوبہ ہرات کے ضلع جبرئیل کے علاقے شہرک المہدی میں ایک مسجد کے باہر پہرہ دیتے ہوئے طالبان کے سکیورٹی اہلکار کے پاس سے ایک برقع پوش افغان خاتون گزر رہی ہیں (اے ایف پی)</p>
.png)
5 hours ago
1



English (US) ·