نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ہفتے کو رات گئے اسلام آباد میں صحافی، کالم نگار اور یوٹیوبر بلال غوری کو سوشل میڈیا پر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تقرری سے متعلق مبینہ طور پر ’جھوٹی اور گمراہ کن‘ معلومات پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا۔
بلال کی اہلیہ حمیرا کنول نے آج اپنے شوہر کے فیس بک اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ میں کہا کہ ان کے شوہر پانچ اور چھ ستمبر کی درمیانی رات دو بجے سے لاپتہ ہیں۔
پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ان کا پرس اور چشمہ گھر میں موجود تھا، گھر کی لائٹس پنکھے بھی چل رہے تھے، لیکن وہ خود گھر میں نہیں تھے۔ ان کا موبائل بھی بند جا رہا ہے۔
بلال کے بہنوئی عبدالواسع نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ بلال کو ان کے گھر سے لے جانے کے دوران اہل خانہ کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
عبدالواسع کے مطابق ’انہیں خاموشی سے لے جایا گیا، گھر والوں کو نہ بتایا گیا، نہ کوئی دستاویز دکھائی گئی اور نہ ہی انہیں معلوم تھا کہ انہیں کس مقدمے میں لے جایا جا رہا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے ممکن ہے بلال کو ان کے خلاف درج ایف ائی آر کے بارے میں بتایا گیا ہو، تاہم خاندان اس کی تصدیق نہیں کر سکتا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’بغیر کسی پیشگی نوٹس کے ایف آئی آر اور گرفتاری کی صورت میں وارنٹ کیسے جاری ہوا، ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔‘
عبدالواسع کے مطابق بلال این سی سی آئی اے اسلام آباد دفتر میں زیر حراست ہیں۔
ان کا دعویٰ تھا کہ خاندان سے کسی سرکاری اہلکار نے رابطہ نہیں کیا جبکہ بلال کی گمشدگی سے متعلق پولیس کو دی گئی درخواست پر بھی فوری کارروائی نہیں ہوئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ابھی تک خاندان کا بلال غوری سے براہِ راست رابطہ نہیں ہوا، البتہ انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ انہیں کل صبح تقریباً 10 بجے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
انڈپینڈنٹ اردو کو دستیاب ایف آئی ار کے متن کے مطابق کارروائی این سی سی آئی اے کی ایک انکوائری کے بعد کی گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق بلال نے پانچ ستمبر کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تقرری کے حوالے سے مواد شائع اور نشر کیا۔
مقدمے میں ان کی ایک ایکس پوسٹ اور تقریباً 16 منٹ اور چھ سیکنڈ کی یوٹیوب ویڈیو کا حوالہ دیا گیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
این سی سی آئی اے کے مطابق انکوائری کے دوران پایا گیا کہ زیر بحث معلومات کو ’جھوٹا، گمراہ کن‘ اور قابلِ اعتماد یا آزادانہ طور پر قابلِ تصدیق بنیاد کے بغیر پیش کیا گیا۔
ایجنسی کے مطابق ’ایسے مواد سے عوامی بے چینی پیدا ہونے یا ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔‘
بلال کئی برسوں میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، بالخصوص یوٹیوب اور ایکس پر حالات حاضرہ اور سیاسی معاملات پر تبصرے کرتے رہے ہیں۔
ان کو حکام کی جانب سے حراست میں لیے جانے کا پہلا واقعہ نہیں۔
رواں سال آٹھ فروری کو انہیں کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بنگلہ دیش جانے کے دوران تحویل میں لیا گیا تھا۔
وہ ڈھاکہ میں 12 فروری کے پارلیمانی انتخابات کی کوریج کے لیے جا رہے تھے۔
تاہم انہیں بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔ بلال نے اس وقت واقعے کو ’تکنیکی غلطی‘ قرار دیا تھا۔
<p>آٹھ مارچ 2021 کو بلال غوری کے فیس بک اکاؤنٹ پر اپ لوڈ کی گئی ان کی تصویر (فیس بک، بلال غوری)</p>
.png)
1 hour ago
1




English (US) ·