اسرائیلی وزیر ايتمار بن غفير سمیت سینکڑوں اسرائیلیوں کا مسجد الاقصیٰ پر دھاوا

3 weeks ago 9

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp
اسرائیلی وزیر ایتمار بن غفیر سمیت سینکڑوں اسرائیلیوں کا مسجد الاقصیٰ پر دھاوا

اسرائیلی وزیر ایتمار بن غفیر کے نہایت غیر متوقع اور پر تعجبیانہ اقدام نے سینکڑوں اسرائیلیوں کو مسجد الاقصیٰ کمپاؤنڈ میں داخل ہونے کی اجازت دی، جو کہ اسرائیلیوں کے لیے ایک تاریخی دن ہے۔ اس کے نتیجے میں، ان قواعد میں تبدیلی کی کسی بھی تجویز سے مسلم دنیا میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔

Background & Context

مسجد الاقصیٰ ایک تاریخی اہمیت کا مقام ہے، جو کہ مسلمانوں کے لیے تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ اس سے قبل، یہودیوں کو صرف مسجد کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی تھی، لیکن وہاں اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ سلسلہ 1967 میں اسرائیل کی جانب سے مسجد الاقصیٰ پر قبضے کے بعد سے چلا آ رہا ہے۔

ایتمار بن غفیر کے اس اقدام کے پیچھے کچھ نئی پالیسیاں یا معاہدے کی غماز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے اسرائیل کے لیے تاریخی جگہوں پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے ایک تجربہ کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی ان انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم نے بہت سے اہم اقدامات اٹھائے ہیں جو کہ مسلمانوں کے لیے ایک پر تعجب جاننے والی بات ہے۔

Key Details

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن اردن کی وزارت خارجہ اور فلسطینی وزارت مذہبی امور دونوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کی۔ ان دونوں حکومتوں کے مطابق، ایتمار بن غفیر کا یہ اقدام موجودہ حیثیت کے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ اردن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ ایک ’مسجد کی بے حرمتی‘ ہے، ’کشیڈگی میں اضافہ‘ ہے، ’ایک وحشیانہ اقدام‘ ہے اور ’ناقابل قبول اشتعال انگیزی‘ ہے۔

ایتمار بن غفیر نے اس موقع پر کہا، ’یہ دن ہم تباہی کو یاد کرتے ہیں، لیکن ہم ٹیمپل ماؤنٹ پر بڑی پیش رفت بھی دیکھ رہے ہیں۔ دیکھیں یہاں (مسجد الاقصیٰ میں) کیا ہو رہا ہے، یہودی یہاں اپنے مذہبی عقائد پر عمل کر رہے ہیں اور خود کو اس جگہ کا مالک محسوس کر رہے ہیں۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔‘

What Experts Say

اس اقدام کے پیچھے کچھ نئی پالیسیاں یا معاہدے کی غماز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے اسرائیل کے لیے تاریخی جگہوں پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے ایک تجربہ کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی ان انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم نے بہت سے اہم اقدامات اٹھائے ہیں جو کہ مسلمانوں کے لیے ایک پر تعجب جاننے والی بات ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کے لیے ان تاریخی جگہوں پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے ایک بڑا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔

Key Takeaways

  • مسجد الاقصیٰ ایک تاریخی اہمیت کا مقام ہے، جو کہ مسلمانوں کے لیے تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔
  • ایتمار بن غفیر کے اس اقدام سے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔
  • اردن کی وزارت خارجہ اور فلسطینی وزارت مذہبی امور دونوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔
  • ایتمار بن غفیر کے اس اقدام کے پیچھے کچھ نئی پالیسیاں یا معاہدے کی غماز نہیں ہے۔

What This Means For You

یہ اقدام مسلمانوں کے لیے ایک پر تعجب جاننے والی بات ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کے لیے ان تاریخی جگہوں پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے ایک بڑا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کے لیے ان تاریخی جگہوں پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے ایک بڑا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ اقدام مسلمانوں کے لیے ایک پر تعجب جاننے والی بات ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کے لیے ان تاریخی جگہوں پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے ایک بڑا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ اقدام مسلمانوں کے لیے ایک پر تعجب جاننے والی بات ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسرائیل کے لیے ان تاریخی جگہوں پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے ایک بڑا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ اقدام مسلمانوں کے لیے ایک پر تعجب جاننے والی بات ہے۔ اس سے پتہ چلت

Read Entire Article
Chatroom