اب تک 274 افغان طالبان اہلکار، 12 پاکستانی فوجی جان سے گئے: ترجمان فوج

7 months ago 48

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کو افغانستان سے جھڑپوں کے دوران اب تک 274 افغان طالبان اہلکار اور 12 پاکستانی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ’آپریشن غضب للحق میں 53 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تازہ جھڑپیں جمعرات کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔

پاکستانی حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے افغانستان کی جانب سے ’بلااشتعال حملے کا آپریشن غضب للحق کے تحت فوری اور موثر جواب دیا۔‘ اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں کو ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اب دما دم مست قلندر ہو گا۔‘

اس حوالے سے جمعے کو پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک نیوز کانفرنس کی جس میں انہوں نے صحافیوں کو تازہ تفصیلات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’اس آپریشن میں اب تک پاکستان کے 12 فوجی اہلکار جان سے گئے ہیں جبکہ 27 زخمی اور ایک فوجی لاپتہ ہے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری نے بتایا کے ’غضب للحق آپریشن میں اب تک افغان طالبان کے 274 اہلکار مارے جا چکے ہیں، 400 سے زائد زخمی ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق ’افغان طالبان رجیم کی 73 پوسٹیں مکمل تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ 18 پوسٹیں ہمارے کنٹرول میں ہیں۔

’اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق طالبان فورسز کے 115 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں وغیرہ تباہ کی جا چکی ہیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ آپریشن اب بھی جاری ہے اور مارے جانے والے افغان طالبان اہلکاروں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب افغانستان کے ساتھ جمعرات کی شب سے جاری سرحدی جھڑپوں کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے جمعے کو بتایا کہ عسکریت پسندوں نے خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں چھوٹے ڈرونز سے حملوں کی کوشش کی، جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا: ’فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملے کی کوشش کی ہے۔ اینٹی ڈرون سسٹم نے تمام ڈرونز کو مار گرایا ہے۔ ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ’ان واقعات نے ایک بار پھر سے افغان طالبان رجیم اور پاکستان میں دہشت گردی کے درمیان براہ راست روابط کو بے نقاب کر دیا ہے۔‘

Read Entire Article
Chatroom