’آپریشن سندور‘ پر انڈین ڈاکیومیٹری حقائق مسخ کرنے کی کوشش: پاکستانی فوج

2 hours ago 1

Want Your Business Featured Here?

Get instant exposure to our readers

Chat on WhatsApp

پاکستانی فوج نے انڈیا کی جانب سے ’آپریشن سندور‘ سے متعلق بنائی گئی ڈاکیومیٹری فلم کو ’حقائق مسخ کرنے‘ اور ناکام فوجی مہم کو کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین بیانیہ اپنے ہی دعوؤں سے متصادم ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے 17 اگست کو جاری بیان میں کہا گیا کہ معرکۂ حق کو ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ’انڈیا تلخ حقیقت کا سامنا کرنے سے انکار کر رہا ہے،‘ اور ’تاریخ کو مسخ کرنے کی اس کوشش کے تحت‘ اس نے ’آپریشن سندور‘ کی ایک انتہائی ڈرامائی، رنگین اور حقائق کے اعتبار سے غلط عکاسی تیار کی ہے، جسے انڈیا کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت پر مشتمل ایک دستاویزی فلم کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔‘

پاکستان معرکہ حق کی اصطلاح مئی 2025 کے دوران انڈیا سے ہونے والی اس جنگ کے لیے استعمال کرتا ہے، جس میں پاکستانی فضائیہ اور مسلح افواج نے آپریشن ’بنیان المرصوص‘ کے تحت انڈین جارحیت کا بھرپور جواب دیا اور دشمن کے متعدد جنگی طیارے مار گرائے۔ یہ پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک اہم باب مانا جاتا ہے۔

انڈیا نے اس جارحیت کا جواز اپریل 2025 میں کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر حملے میں ہونے والی اموات کو بنایا تھا اور اپنی ان کارروائیوں کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا تھا۔

اب 15 اگست کو انڈیا نے اپنے ’آپریشن سندور‘ پر ایک دستاویزی فلم جاری کی ہے، جسے پاکستانی فوج نے ’بیک وقت المیہ اور مزاحیہ ڈراما‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ڈاکیومینٹری میں ’منتخب انٹرویوز کی ایڈیٹنگ، جذباتی بیانیے اور بالی وڈ کے انداز میں سینیما طرز کی منظر کشی کے ذریعے پہلے سے ثابت شدہ حقائق کو بدلنے اور فوجی کارروائی کے نتائج کو ازسرنو لکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں اس دستاویزی فلم میں پیش کیے گئے موقف میں نظر آنے والے تضادات پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیان کے مطابق انڈیا نے پہلگام حملے کے تین مبینہ ذمہ داروں کو 28 جولائی 2025 کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا، جو ’آپریشن سندور‘ کے 82 دن بعد کا واقعہ ہے، تاہم نئی دستاویزی فلم میں ’آپریشن سندور‘ کو انہی افراد کو سزا دینے کے لیے کی گئی کارروائی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

یہاں سوال اٹھایا کہ ’اگر مبینہ حملہ آور 28 جولائی کو مارے گئے تھے تو انڈیا کو وضاحت کرنا ہوگی کہ 7 مئی 2025 کو اس کے دعوے کے مطابق کس کو سزا دی گئی؟‘

پاکستان کے مطابق معرکۂ حق کے دوران اس کی مسلح افواج نے انڈین جارحیت کو کامیابی سے ناکام بنایا اور انڈیا کے 8 فوجی طیارے مار گرائے۔ اس کے بعد پاکستان نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کے تحت انڈیا کے 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے دوران فتح میزائلوں اور راکٹوں، پاکستانی فضائیہ کے درست نشانے والے ہتھیاروں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے خودکار حملہ آور ہتھیاروں اور درست نشانے والے توپ خانوں کا استعمال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر نے انڈین دستاویزی فلم میں ’100 فیصد مشن کی کامیابی‘ کے دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعویٰ فوجی کارروائی کے ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا۔

بیان کے مطابق: ’دستاویزی فلم خود بھی انڈین غلبے کے واضح دعوے کو مزید کمزور کرتی ہے۔‘

مزید کہا گیا کہ انڈین فوجی قیادت نے خود پاکستانی میزائلوں، ڈرونز اور فضائی سرگرمیوں، لائن آف کنٹرول پر جاری جھڑپوں اور انڈین فضائی دفاعی نظام کو فعال کیے جانے کا اعتراف کیا ہے۔ ’ان اعترافات کو پاکستان کی فیصلہ کن شکست کی بار بار کی جانے والی تصویر کشی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا مشکل ہے۔‘

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں دستاویزی فلم میں جنگ بندی کی پیش کردہ تصویر پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ فلم کا اپنا بیانیہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان رابطے اور فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق کے ذریعے جنگ بندی ہوئی۔

لہذا ’یہ بات ہی آپریشن سندور کو یک طرفہ انڈین فوجی فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تردید کرتی ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’امریکہ کی سہولت کاری سے ہونے والی جنگ بندی کو بعد ازاں غیر مشروط فتح کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔‘

پاکستانی فوج نے انڈین دستاویزی فلم کو ’ایک غیر جانب دار فوجی تجزیے کے بجائے نہایت احتیاط سے تیار کیے گئے اندرونِ ملک بیانیہ‘ قرار دیا۔

بیان کے مطانق: ’انڈیا سچائی کو منظرِ عام پر نہیں لایا۔ اس نے ایک فوجی غلطی کو کامیاب مہم کے طور پر پیش کرنے کے لیے ایک پروپیگنڈا ویڈیو جوڑ توڑ کر تیار کی ہے۔‘

مزید کہا گیا کہ واقعات کی زمانی ترتیب، طیاروں کے نقصانات، فوجی اموات اور میدانِ جنگ میں ہونے والی جھڑپوں کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

بقول آئی ایس پی آر: ’سینیما طرز کی منظر کشی کی کوئی مقدار زمانی ترتیب کو تبدیل نہیں کر سکتی، طیاروں کے نقصانات کو مٹا نہیں سکتی، فوجی اموات کو چھپا نہیں سکتی، حقیقت میں ہونے والی فوجی جھڑپوں کو بدل نہیں سکتی اور میدانِ جنگ میں شکست کو خود ساختہ فتح میں تبدیل نہیں کر سکتی۔‘

پاکستانی فوج نےمزید کہا کہ اسے ’معرکۂ حق‘ کے بارے میں کوئی نیا بیانیہ گھڑنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ’فوجی کارروائی کا ریکارڈ، میدانِ جنگ کے شواہد، سفارتی تبادلے اور انڈیا کے اپنے بعد کے بیانات خود سب کچھ بیان کرتے ہیں۔‘

آخر میں علاقائی امن اور استحکام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انڈیا کو خبردار کیا گیا کہ ’مستقبل میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کا جواب مضبوط، فیصلہ کن اور غیر متناسب ردعمل سے دیا جائے گا۔‘

پاکستانی فوج نے انڈیا کی جانب سے ’آپریشن سندور‘ سے متعلق بنائی گئی ڈاکیومیٹری فلم کو ’حقائق مسخ کرنے‘ اور ناکام فوجی مہم کو کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین بیانیہ اپنے ہی دعوؤں سے متصادم ہے۔
منگل, اگست 18, 2026 - 07:30
Main image: 

<p class="rteright">پاکستان فوج&nbsp;کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف چوہدری منگل سات مئی 2024 کو راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (آئی ایس پی آر)</p>

type: 
SEO Title: 
’آپریشن سندور‘ پر انڈین ڈاکیومیٹری حقائق مسخ کرنے کی کوشش: پاکستانی فوج
Read Entire Article
Chatroom