پاکستان میں جعلی ویب سائٹس، مشکوک لنکس اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والے آن لائن فراڈ کے خلاف پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ہزاروں مشکوک لنکس بلاک کر دیے۔
پاکستان میں حالیہ عرصے کے دوران آن لائن فراڈ کے واقعات اور ان میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیوں کی خبریں تواتر سے سامنے آ رہی ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
آج سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق پی ٹی اے نے الیکٹرانک فراڈ سے متعلق 15 ہزار 706 سے زائد مشکوک لنکس کی جانچ پڑتال کی، جن میں سے 15 ہزار 39، یعنی 95.75 فیصد مشکوک لنکس بلاک کر دیے گئے۔
ان لنکس میں مختلف ویب سائٹس اور ایپس کے علاوہ فیس بک، انسٹاگرام، ایکس اور ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے متعلق لنکس شامل تھے۔
کارروائیاں صرف مشکوک لنکس کو بلاک کرنے تک محدود نہیں رہیں۔ ستمبر 2023 سے ستمبر 2026 کے دوران فراڈ میں استعمال ہونے کے شبہے میں چھ ہزار 818 موبائل نمبرز اور پانچ ہزار 925 موبائل ڈیوائسز بھی بلاک کی گئیں۔
اسی عرصے کے دوران 174 قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے جبکہ چھ ہزار 818 کیسز وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو بھی بھیجے گئے۔
پاکستان میں بینکوں کو سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سامنا ہے جبکہ بین الاقوامی اداروں کے مطابق ہر دو میں سے ایک پاکستانی کو سائبر سکیورٹی کے مسائل درپیش ہیں۔
تیزی سے بڑھتی ڈیجیٹلائزیشن اور آن لائن ادائیگیوں میں نمایاں اضافے کے ساتھ سائبر خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔
بینکاروں کا کہنا ہے کہ صورت حال تشویش ناک حد تک نہیں پہنچی، تاہم اس پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جس سے پاکستان کے بینکاری نظام کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسرے جانب گذشتہ کچھ مہینوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مختلف شہروں میں کئی جعلی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔
ستمبر کے آخر میں راولپنڈی میں ایک مبینہ غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپے کے دوران 61 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ 155 لیپ ٹاپ اور 71 موبائل فون قبضے میں لیے گئے۔
22 ستمبر کو اسلام آباد میں تین مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز پر کارروائی کے دوران 212 پاکستانی اور چینی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔
حکام نے ان مراکز سے جعلی سرمایہ کاری، قرضوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے فراڈ جیسی سرگرمیوں کو منسلک کیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے ستمبر کے آخر میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو مالی فراڈ، جعلی اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل بلیک میلنگ کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
<p>24 جون، 2023 کی اس تصویر میں اسلام آباد میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا صدر دفتر بیرونی نظر آ رہا ہے (اے ایف پی)</p>
.png)
2 hours ago
3




English (US) ·